Connect with us

خبریں

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں سرمائی ٹیک کیمپ کی اختتامی تقریب منعقد

جی بی اسٹاف

Published

on

ٹیکسکیپ (TechScape) اور Accelerate Prosperity پاکستان نے سرمائی ٹیک کیمپ(Winter Tech Camp) 2019-20 کا اختتام Musharaf Hall قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں منعقدہ ایک اختتامی تقریب کے ساتھ کیا ، مہمان خصوصی کمانڈر خصوصی مواصلات آرگنائزیشن (SCO) کرنل کے ذریعہ کیمپ کے شرکاء اور کفالت کرنے والوں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیا گیا۔ ثاقب اقبال۔ KIU ، AKRSP اور GBRSP کے مہمان نمائندے بھی موجود تھے-

 تقریب کے مہمان خصوصی کرنل ثاقب اقبال نے اپنے خطاب میں موجودہ دور میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈیجیٹل مہارتوں کے ذریعے گلگت بلتستان کی Dynamics کو تبدیل کرنے میں ٹیکسکیپ (TechScape) کی کاوشوں کو سراہا اور مستقبل میں ایسے کیمپوں تک ہر ممکن طریقے سے تعاون کرنے کا عہد کیا۔ٹیکسکیپ کے چیف ٹیکنیکل آفیسر مسٹر ساجد خان نے سامعین کو ٹیکسکیپ کی فراہم کردہ خدمات کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں ڈیجیٹل ہنر سیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی دلچسپی کے شعبے کو آگے بڑھانے کی ترغیب دیں۔مسٹر محمد ایاز خان، انوسٹمنٹ تجزیہ کار Accelerate Prosperity پاکستان ، نوجوان تاجروں کے لئے اکو سسٹم بنانے میں Accelerate Prosperity خدمات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے آئی ٹی سیکٹر جی بی ، خاص طور پر ، نوجوان ذہنوں ، بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل پر توجہ دینے میں ٹیکسکیپ اور ان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ٹیکسکیپ کے ذریعہ سرمائی ٹیک کیمپ(Winter Tech Camp) کا انعقاد اے پی کو-ورکنگ اسپیس اور آغا خان ہائر سیکنڈری اسکول ، گلگت میں Accelerate Prosperity کے تعاون سے کیا گیا۔ کیمپ میں شامل ماڈیولز میں ایپ ڈویلپمنٹ ، گیم ڈویلپمنٹ ، ویب ڈویلپمنٹ ، روبوٹکس ، فری لانسنگ ، فوٹو شاپ اور ایم ایس آفس شامل تھے۔

طلباء نے اپنے ٹیک پروجیکٹس پر Scratch ، MIT App Inventor ، Unity ، Mobirise ، WordPress وغیرہ جیسے پلیٹ فارم کا استعمال کرکے کام کیا-  کیمپ نے صنعتی دورے بھی کیے جہاں طلباء نے ایس سی او اور کیلیبرون انٹرنیشنل کا دورہ کیا۔ ان دوروں کے پیچھے بنیادی خیال طلباء کو اپنے آس پاس کی ٹیک پر مبنی صنعت سے واقف کرنا تھا اور انھیں کام کے مستقبل کی جھلک پیش کرنا تھا۔

ٹیکسکیپ گلگت بلتستان میں پہلی ایجوکیشن ٹکنالوجی کمپنی ہے ، جو گلگت بلتستان میں مختلف ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ہنر پر مختلف بوٹ کیمپوں کا اہتمام کرتی ہے۔ اس نے گلگت میں 1000 سے زیادہ طلباء کو تربیت دی ہے ، ہنزہ اور غیزر میں بھی کیمپ شروع کیے ہیں اور جی بی کے پسماندہ علاقوں جیسے چپرسن اور ہندور میں بھی کام کر رہے ہیں۔

جی بی اسٹاف آپ کو گلگت بلتستان اور چترال کی تازہ ترین حالات حاضرہ سے باخبر رکھتے ہیں۔

Advertisement
Click to comment

خبریں

ضلع ہنزہ کے وادی شمشال کے کرونا وائرس قرنطینہ میں موجود افراد کے مطالبات

رحیم امان

Published

on

ضلع ہنزہ کے وادی شمشال کے کرونا وائرس قرنطینہ

ہنزہ (رحیم امان) ٹی بی ٹیکنیشن بشارت کے پاس چیک اپ کے لیے آنے والے شمشال سے تعلق رکھنے والے دو ٹی بی مریض سمیت بارہ افراد اب تک قرنطینہ میں ہیں جبکہ بشارت ٹی بی ٹیکنیشن کا ریزلٹ منفی آنے کے بعد قرنطینہ میں رکھنا بلاجواز ہے، ضلعی انتظامیہ جلد رپورٹ منگوا کر قرنطینہ سے رہا کریں۔ قرنطینہ میں موجود متاثرین کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق 29 اپریل کو ہنزہ کے دور افتادہ وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے دو ٹی بی کے مریض ٹی بی ٹیکنیشن بشارت کے پاس چیک اپ کے لیے آئے جن کے ساتھ دیگر دس افراد بھی شامل تھے۔ جب وہ لوگ شمشال واپس پہنچے تو ٹی بی ٹیکنیشن بشارت حسین کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاع موصول ہو گئی جس کے بعد ان بارہ افرا د، کو جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں اور دو ٹی بی کے مریض بھی شامل ہیں، کو یکم اپریل کو شمشال سے واپس لاکر قرنطینہ منتقل کیا گیا اور اسی دن کورونا ٹیسٹ بھی لیاگیا لیکن آج تک ان کا نتیجہ موصول نہیں ہوس ہے جبکہ ان کے ساتھ جن کاٹیسٹ لیا گیا ان سب کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد انہیں قرنظینہ سنٹر سے چھوڑا گیا ہے۔جس شک کی بنیاد پر انہیں قرنظینہ منقل کیا گیا تھا ٹی بی کنٹرول پروگرام کے ٹیکنیشن کبشارت حسین سے چیک اپ کروانے کے بعد تو خود بشارت حسین کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا ہے۔

قرنطینہ میں موجود وادی شمشال کے افراد نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جس شک کی بنیادانہیں قرنطینہ منتقل کیا گیا تھا اب اس کا نتیجہ منفی آنے کے بعدکوئی جواز نہیں بچتا کہ ہمیں مزید قرنطینہ میں رکھا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ٹیسٹ کے نتائج جلد حاصل کرکے انہیں قرنطینہ سے رہا کیا جائے۔

Continue Reading

خبریں

سیڈو گلگت بلتستان کی جانب سے ہنزہ انسداد تمباکو مہم جاری

رحیم امان

Published

on

Smoking in Hunza

ہنزہ (رحیم امان) سیڈو گلگت بلتستان کی جانب سے ہنزہ انسداد تمباکو مہم جاری، عوام الناس کو تمباکو خاص کر سگریٹ کے دھواں کے ساتھ کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلاو کے خطرے سے آگاہ کرنے کے اور وبا کے دوران تمباکو نوشی کے عادی افراد لاحق خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے پمفلٹ کی تقسیم کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ہنزہ بھر میں حکومت گلگت بلتستان اور غیر سرکاری و فلاحی ادارہ سیڈو کا مشترکہ مہم کے تحت تمباکو نوشی اور تمباکو نوشی کے متعلق قوانین کی عمل درآمد کے لیے دفعہ 144 پہلے سے ہی لاگو ہے جس کے تحت کم عمر بچوں کو سگریٹ بھیجنے،کھلا سگریٹ فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور صحت عامہ کے اداروں کے اطراف میں پچاس میٹر تک تمباکو نوشی سے متعلق اشیاء کی خرید وفروخت پر پابندی عائد ہے۔

کورونا وئرس سے پیدا شدہ صورتحال میں بھی سیڈو گلگت بلتستان کا مہم جاری ہے جس کے تحت ہنزہ میں عوام الناس کو تمباکو نوشی کے نقصانات اور خاص کر ان حالات میں جب کہ کورونا وبا پھیل رہی ہے تمباکو نوشی کے مضر اثرات بڑھ رہے ہیں اس صورتحال حال سے آگاہ کرنے کے لیے مہم جاری ہے عوام الناس کو بروشرز اور پمفلٹ کے ذریعے آگاہی دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں کریم آباد ہنزہ اور حیدر آباد ہنزہ میں عوام الناس کو تمباکونوشی کے مضمرات اور اس سے پھیلتے اور بڑھتے ہوئے کورونا کے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ لوگوں میں بروشرز تقسیم کئے گئے اور آگاہی دی گئی۔ اس موقع پر سگریٹ کے کے دھواں کے ساتھ تیزی کوروناوائرس کی پھیلاو کے بڑھتے خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو کورونا وائرس کی پھیلاو سے بچانے کے لیے عملی طور پر ہاتھوں کو سنیٹائز کروا کر کورونا کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرنے پر زور بھی دیا گیا۔

Continue Reading

خبریں

ضلع ہنزہ میں کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دوران بھی تمباکو نوشی کی دکانیں کھلی

رحیم امان

Published

on

Aliabad Hunza

ہنزہ (رحیم امان) ہنزہ بھر میں جنرل سٹور،سبزی کی دکانیں اور میڈکل سٹورز کے علاوہ تمام ضروریات زندگی کی دکانیں بند مگر سگریٹ نسوار اور دیگر تمباکو نوشی کی دکانیں اور ہول سیلرز کی دکانیں جازت نہ ہونے کے باوجود کھلی ہیں۔ نسوار کے کاروبار سے منسلک افراد کورونا ٹیسٹ نہ ہونے سے کورونا کی پھیلاؤ میں تیزی آنے کا خطرہ بڑھ گیا۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس سے ملک بھر کی طرح ضلع ہنزہ میں میں بھی لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف کاروبار سے منسلک دکانوں کے لیے اوقات کار اور ایام مختص ہیں مگر ان حالات میں تمباکو نوشی کی دکانیں جن کا ذکر ضلعی انتظامیہ کی جاری کردہ لسٹ میں موجود نہ ہونے کے باوجود کھلی رہتی ہیں حالانکہ اس صورتحال میں تمباکو نوشی اور اس کا لین دین کے باعث کرونا وائرس کی پھیلاؤ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

ضلع ہنزہ میں ضلعی انتظامیہ نے مختلف کاروباروں سے منسلک دکانوں مختلف دنوں میں کُھولنے کی اجازت دے رکھی ہے اور عمل درآمد کروانے کے لیے باقائدہ نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ہنزہ کے بیشتر علاقوں میں تمباکو نوشی سے منسلک دکانیں مسلسل کھلی رہتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نسوار گلگت بلتستان میں مقامی سطح پر تیار ہوتا ہے مگر آج تک اس کی تیاری میں موجود افراد کا نہ تو کورونا ٹیسٹ ہوا ہے اور نہ اس حوالے سے حفاظتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ گلگت بلتستان میں نسوار کی ترسیل سے کورونا وائرس کی پھیلاؤ میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک نے ان حالات میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی عائد کی ہے ان حالات کو مدنظر رکھ کراقدامات اُٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

Continue Reading

مقبول تریں