Connect with us

خبریں

ضلع ہنزہ میں تمباکونوشی کے خلاف دفعہ 144 نافذ

Published

on

ضلع ہنزہ میں تمباکونوشی کے خلاف دفعہ 144 نافذ

ہنزہ (اکرام نجمی) حکومت گلگت بلتستان اور غیر سرکاری فلاحی ادارہ سیڈو کی مشترکہ مہم تمباکو سموک فری ہنزہ مہم کے تحت ہنزہ بھر میں ا ٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو تمباکو کے اشیاء فروخت کرنے، کھُلا سگریٹ فروخت کرنے، تعلیمی اداروں اور صحت کے اداروں سے 50 میٹر فاصلے کے اندر تمباکو نوشی سے متعلق اشیاء فروخت کرنے، تمام پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی کرنے،تمام پبلک علاقوں میں تمباکو نوشی کرنے اور تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں تمباکو نوشی کرنے پر فیاض احمد ڈپٹی کمشنر ہنزہ نے پابندی عائد کرتے ہوئے تمباکو نوشی کے خلاف ہنزہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کیا ہے، دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا، نئی نسل کو تباہ ہونے سے بچانے کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قانون کے تحت سخت کاروائی کی جائے گی۔

ہنزہ کو جنوبی ایشیاء کا پہلا پلاسٹک فری علاقہ ہونے کا اعزاز ملنے کے بعد اب ہنزہ کی نئی نسل کو تمباکو نوشی جیسی لعنت سے دور رکھنے کے لیے حکومت گلگت بلتستان اور غیر سرکاری اور فلاحی ادارہ سیڈو کی مشترکہ مہم تمباکو سموک فری ہنزہ کے تحت ہنزہ بھر میں تمباکو نوشی اور تمباکو نوشی سے متعلق کاروبار کی حوصلہ شکنی کے لیے ڈپٹی کمشنر ضلع ہنزہ فیاض احمد کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔

ضلع ہنزہ میں تمباکونوشی کے خلاف دفعہ 144  نافذ

تفصیلات کے مطابق گزشتہ جمعہ ڈپٹی کمشنر ضلع ہنزہ فیاض احمد نے ہنزہ پریس کلب کے ممبران اور عہداراروں کے ساتھ ایک میڈیا بریفنگ میں ہنزہ بھر میں ا ٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو تمباکو کے اشیاء فروخت کرنے، کھُلا سگریٹ (دانوں کی شکل میں)فروخت کرنے،تعلیمی اداروں اور صحت سے متعلقہ اداروں کے 50میٹر فاصلے کے اندر تمباکو نوشی سے متعلق اشیاء فروخت کرنے(کاروبار کرنے)، تمام پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی کرنے،تمام پبلک علاقوں میں تمباکو نوشی کرنے اور تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں تمباکو نوشی پر فیاض احمد ڈپٹی کمشنر ہنزہ نے پابندی عائد کرتے ہوئے تمباکو نوشی کے خلاف ہنزہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں دفعہ 144 پر عمل کروانے کے لیے محکمہ پولیس، تمام اسسٹنٹ کمشنرز، تمام تحصیل اور دیگر اداروں کو احکامات جاری کردئیے جائے گے،اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف قانون تحت سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے مزید کہا کہ ضلع ہنزہ میں انسداد تمباکو نوشی کے لیے ضلعی سطح پر ٹاسک فورس قائم کردی گئی ہے اس کااجلاس بہت جلد ہوگا جس میں لائحہ عمل اور اس مہم کو بہتر عملی اندازمیں موثر بنانے پر غور کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد وزارت صحت کی انتباہی تصاویر اور پیغام کے بغیر دستیاب سگریٹ یا سمُگل سگریٹ کے خلاف کاروائی قانون کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔صحافی کے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کے فلیور زپر مبنی سگریٹ جس سے بچوں میں سگریٹ نوشی کی عادت بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے اس پر آئندہ کی انسداد تمباکو نوشی ٹاسک فورس کی اجلاس میں پابندی عائد کی جائے گی۔

اس موقع پرڈی سی ہنزہ فیاض احمد نے اپنے ماتحت تمام اداروں کو تمباکو نوشی کے خلاف دفعہ 144پر عمل درآمد کروانے کے لیے احکامات جاری کر دئیے۔

اکرام نجمی گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سینیر صحافی ہیں۔ وہ ہنزہ پریس کلب کے ساتھ منسلک ہیں اور دیواکو میڈیا سروسز کے سی ای او بھی ہیں۔

Advertisement
Click to comment

جرم

سی ٹی ڈی کاروائی میں گن پوائنٹ لوٹنے والا بین الصوبائی گروہ گرفتار

Published

on

سی ٹی ڈی اپریشنل ٹیموں کی کامیاب کاروائی, شام اوقات میں گن پوائنٹ پر شہریوں اور مسافروں کو لوٹنے والے بین الصوبائی گروہ گرفتار. گروہ میں دیامر، نگر، گلگت, سکارکوی اور ڈومیال کے لڑکے شامل ھیں جنکی نشاندہی پر دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیئے پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

سی ٹی ڈی اپریشنل ٹیموں کی کامیاب کاروائی, شام اوقات میں گن پوائنٹ پر شہریوں اور مسافروں کو لوٹنے والے بین الصوبائی گروہ گرفتار. گروہ میں دیامر، نگر، گلگت, سکارکوی اور ڈومیال کے لڑکے شامل ھیں جنکی نشاندہی پر دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیئے پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

گرفتار گروہ سے نقدی, موبائل فون، اسلحہ, اور دیگر قیمتی سامان برآمد کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ ابتدائی تفتیش میں گرفتار ملزمان نے سنسنی خیز اور دلچسپ انکشافات کردیئے ھیں۔

بین الصوبائی گروہ کا حالیہ دنوں نگر چھلت میں گن پوائنٹ پر شہریوں اور مسافروں کو لوٹنے کیس میں ملوث ھونیکے امکانات ھیں۔ گروہ نے نسیم سنیما چوک رمضان ھوٹل کی گلی میں موجود تندورچی سے نقدی اور موبائل, عسکری بینک گلی کے تندورچی سے نقدی اور موبائل فون, کنوداس ایریا میں گن پوائنٹ پر دوکاندار سے نقدی اور موبائل فونز, جوٹیال ذوالفقار اباد روڈ میں گن پوائنٹ کے ذریعے نقدی اور دیگر قیمتی سامان, جوتل سوسائٹی دفتر سے ڈکیتی کے ذریعے ھزاروں مالیت کے سامان اور نقدی اور گلگت کے دیگر ملحقہ علاقوں سے بھی اسلحے کی نوک پر درجنوں شہریوں اور مسافروں سے لاکھوں مالیت کے سامان اور نقدی چھین کر فرار ھوتے تھے۔

اے آئ جئ سی ٹی ڈی اپریشنل گلگت بلتستان حفیظ الرحمن

گروہ سے تفتیش شروع کردیا گیا ھے جب کہ گروہ میں دیامر,نگر,گلگت, سکارکوی, ڈومیال کے لڑکے شامل ھیں جنکی نشاندہی پر دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیئے پولیس ٹیمیں تشکیل دیدیں ھیں۔ سی ٹی ڈی اپریشنل ٹیم نے,سب انسپکٹر شیر عالم اور سب انسپکٹر سہراب احمد کی سربراہی میں کریک ڈاون کرکے چار روز میں آٹھ مفرور خطرناک اشتہاری ملزمان کو گرفتار کر کے متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

دونوں اپریشنل ٹیموں کی بہترین کارکردگی پر,,آئ جی پی گلگت بلتستان ڈاکٹر مجیب الرحمان نے نقدی سمیت A کلاس سرٹیفکیٹ جبکہ دونوں آپریشنل ٹیموں کو نقد 10 ھزار روپیے سمیت تھری کلاس سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

شہریوں کا بھی فرض بنتا ھیکہ وہ سیکورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ بہتر امن وامان اور عوام کے جان ومال کی حفاظت یقینی بنانے کے لیئے مزید اقدامات اٹھائیں گے, اے آئ جئ سی ٹی ڈی اپریشنل گلگت بلتستان حفیظ الرحمن کا روزنامہ اوصاف کو خصوصی انٹرویو.

Continue Reading

خبریں

کوہستان میں کے کے ایچ پر ملک آفرین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج اور کھلی دھمکیاں

Published

on

Kohistan 24/7

کوہستان کے میرغزن سکندر اور انجینئر بخت بلند خان اور دیگر مظاہرین نے ہندرپ کیس کے ماسٹر مائنڈ ملک آفرین کو فوری طور پر رہا نہ کرنے کی صورت میں گلگت بلتستان کے عوام اورخُصوصاً اسماعیلیوں کو شاہرہ قراقرم اور کوہستان سے گزرنے نہ دینے کی دھمکی دی۔ اس کے ساتھ ہی مظاہرین نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ دار ڈی آئی جی گلگت بلتستان کو ٹھرایا۔

ملک آفرین کو عدالتی حکم پر گرفتار کیا گیا تھا اور ابھی ریمانڈ پر ہے۔ ملک آفرین کو گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے علاقے ہندرپ سے گزشتہ سال چار افراد کو اغواء کرانے کے جرم میں گرمتار کیا گیا تھا۔

گلگت بلتستان کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس شرانگیز واقعے کی مذمت کی ہے اور پی ٹی آئی حکومت سے فوری کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading

پاکستان

پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آگئے، ایک کا تعلق گلگت بلتستان سے

Published

on

پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آگئے، ایک کا تعلق گلگت بلتستان سے
وائس آف امریکہ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایک کیس کی تشخیص کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں جبکہ دوسرے کیس کی تشخیص اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ(این آئی ایچ) میں ہوئی۔

 وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہے کہ  دونوں مریضوں کا اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے اور دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

یحییٰ جعفری 10 فروری کو تہران سے قُم پہنچا اور فلُو کا شکار ہوا،18 فروری کو اسے بخار،سردرد،ناک کا بہنا اور جسم میں درد شروع ہوا، 6 روز بعد کراچی کے نجی اسپتال میں ٹیسٹ کروایا تو کورونا کی تصدیق ہوئی جس کے بعد اسے خصوصی وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکام وزارت صحت کے مطابق کورونا وائرس کا دوسرا کیس اسلام آباد میں سامنے آیا ہے، متاثرہ شخص کا تعلق  گلگت بلتستان سے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ(این آئی ایچ) نے متاثرہ شخص کے ٹیسٹ کے بعد کورونا وائرس کی تصدیق کی ہے جس کے بعد اسے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز( پمز) میں آئیسو لیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضٰی وہاب کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کو فوری طور پر آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیاہے جب کہ اس کے ساتھ جہاز میں سفر کرنے والے دیگر افراد کو بھی تلاش کررہے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ یحیٰی جعفری کو شایدائیرپورٹ پر اسکین نہیں گیا گیا تھا، ائیرپورٹ صوبائی حکومت کے نہیں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں،ائرپورٹ پر فوری طور پر نگرانی بڑھانے کی ضرورت تھی۔ سندھ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت تمام اقدامات کررہی ہے،کورونا وائرس سے متعلق کٹس موجود ہیں جو کہ اسپتال میں فراہم کردی گئیں ہیں،ایران سےآنے والی فلائٹس روکنا بھی ضروری قدم ہوگا۔

 کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاکستان اورایران میں براہ راست پروازوں پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے، لاہور کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے تمام حصوں سے ایران جانے والی تمام پروازیں بند رہیں گی۔

کروناوائرس کیس سامنے آنے پر سرجیکل ماسک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، 50 سرجیکل ماسک کےڈبےکی قیمت میں1500روپےتک اضافہ ہوا اور 80 روپے والا ڈبہ 2500 روپے تک فروخت ہونے لگا۔ دوسری جانب تاجروں نے سرجیکل ماسک مارکیٹ سےغائب کردیئے،اے آروائی نیوز کے اسٹنگ آپریشن لیکن کسی کے کان پرجوں نہیں رینگی ،مارکیٹ میں سرجیکل ماسک کا باکس ایک ہزارروپے کاہوگیا ہے۔

Continue Reading

مقبول تریں