Connect with us

بلاگ

خوش بخت کو خوش رہنے دیا جائے

حسین علی شاہ

Published

on

Hussain Ali Shah - Gilgit-Baltistan Blogger

ہماری یوتھ اور دیگر ادارے، سوشل میڈیا کے لوگ جس جس نے خوش بخت کی بازیابی کے لئے آواز اُٹھائی وہ یقنا تعریف کے قابل ہیں۔ اس میں کراچی سے لیکر گلگت تک جہاں جہاں سے آواز اُٹھائی گئی، احتجاج ریکارڈ کرایا گیا وہ صرف اور صرف خوش بخت کی بازیابی تھی۔

لوگوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا، یہ نہیں سوچا تھا کہ وہ کس حالت میں ان کے گھر والوں کو ملے۔ ان سب لوگوں کا ایک ہی مقصد تھا کہ اس لڑکی کا سراغ لگایا جائے جو پچھلے 4 دنوں سے گھر سے رابطے میں نیں ہے۔ مقصد صرد اس کو ڈھونڈھنا تھا چاہے وہ کسی بھی حال میں۔ اس میں وہ سارے آپشن موجود تھے جس کا ابھی ذکر ہورہا ہے۔ 

اُس سے کسی نے اغواء کیا ہو، اس نے کہیں خودکشی تو نہیں کی، اس کے ساتھ کوئی زیادتی تو نہیں ہوئی، کسی کے ساتھ پسند کی شادی تو نہیں کی۔ یہ سارے آپشن تھے جس کے تحت پولیس نے اپنی انوسٹی گیشن شروع کی۔ 

شاید ہم میں سے بہت سارے لوگوں کے زہنوں میں اس لئے غصہ پایا جاتا ہو کہ اس نے پسند سے شادی کرکے کیوں چلی گئی۔ کسی کو بتایا کیوں نہیں۔ یا پھر یہ کہ ہم نے پہلے ہی اپنے زہن میں ایک خاکہ بنا رکھا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔ اس کو اغواء کیا گیا ہوگا، اس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہوگی یا پھر اس کو مار دیا ہوگا۔ یہ سارے خاکے ایسے تھے جس میں وہ لڑکی مظلوم نظر آتی تھی جس کہ وجہ سے یہ خاکے ہمارے زہنوں میں زیادہ جگہ بنانے لگے تھے اور اسی وجہ سے سوچ کو دوسری طرف موڑنا مشکل ہو گیا تھا۔ اب جبکہ لڑکی بازیاب ہوگئی ہے اور خیرتی کے ساتھ وہ اپنے شوہر کے گھر میں موجود ہے تو پھر ہمیں اس ٹاپک کو کلوز کرکے دوسری رخ پہ سوچنے کہ بجائے یہ کہہ کر ہلکان ہورہے ہیں کہ لڑکی نے پسند سے شادی کیوں کی۔

اگر کی بھہ تو کسی کو بتایا کیوں نہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ بات سن کے ہم جیسے لوگوں میں غصہ کتنا پایا جاتا ہے تو اندازہ کرے کہ حالات کیسے ہوئے ہونگے۔ اس لئے شاید اس لڑکی کے لئے بتانا ممکن نہ ہو۔ یا پھر یوں کہے ہمارے زہنوں میں یہ بات گھر کر گئی تھی کہ دوسرے حادثوں کے ساتھ لڑکی کی بازیابی ہو۔ 
اب جب لڑکی بازیاب ہوئی تو پھر وہی اپنی زہنی سوچ کے حساب سے باتیں شروع کرنے لگے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔

یہ تو اچھا ہوا کہ یہ کیس جلدی سے کلوز ہوگیا کیونکہ یہ طول پکڑتا جارہا تھا۔ اور جتنی دیر یہ کیس کلوز ہوتا اتنا ہی غم و غصہ بڑھ جاتا۔ 

اس لئے میری التجاء ہے کہ اس معاملے کو یہاں ختم کرکے دوسرے کیسز جو راولپنڈی میں رونما ہوئے ہیں ان پہ فوکس کی جائے۔ وہاں بھی ہر طرح کے خدشات کو سامنے رکھ کر تحقیقاتی اداروں کی مدد کی جائے تاکہ قاتلوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ 

آخری التجاء۔ 
خوش بخت کو خوش رہنے دیا جائے۔ ان کے گھر والوں اور رشتہ داروں کے زخموں کو کرید کرید کر ناسور نہ بنایا جایے۔

شکریہ!

حسین علی شاہ کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع غذر سے ہے۔ وہ کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک نجی بینک میں کام کرتے ہیں۔ انھیں سوشل میڈیا پر بلاگ لکھنے کا شوق ہے۔

Advertisement
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول تریں