Connect with us

کالم

ڈائمنڈ جوبلی سے ڈائمنڈجوبلی تک

منصب امامت کے 60سال مکمل ہونے پر مکتب اسماعیلیہ میں ڈائمنڈجوبلی منانے کا رواج ہے ۔ جس سال 60سال پورے ہوجائیں اس سارے سال مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جاتا رہتا ہے ۔ ان تقاریب کا بنیادی مقصد خوشی اور اپنے امام سے محبت کااظہار کرنا ہوتا ہے۔ 

فہیم اختر

Published

on

Aga Khan III and Aga Khan IV

1946 میں سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کا ڈائمنڈجوبلی منایا گیا ۔ سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم قیام پاکستان کی تحریک میں صف اول کے رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے ۔ اس دور میں بھی انہوں نے عالمی سطح پر مسلم امہ کو درپیش مسائل پر اور ان کے حل کے لئے اقدامات کئے ۔ جن میں ایک اہم قدم وہ ہے جب ترکی میں قائم مسلمانوں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرنے کے لئے عالمی سازشیں اور دباؤ عروج پر تھا تو آغا خان سوئم برصغیر سے چیدہ چیدہ مسلم رہنماؤں کے ہمراہ ترکی گئے اور ترک ’خلفاء‘کو ہر قسم کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی کی خلافت مسلمانوں کی ملی جذبے اور اجتماعیت کے لئے ایک علامت ہے ہم اس خلافت کو بچانے کے لئے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔

سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کا گولڈن جوبلی اس حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے اپنی ڈائمنڈجوبلی میں گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ کے میر جمال خان کو 12ہزار روپے بطور امداد فراہم کردئے اور ساتھ میں ہدایت کی کہ اس رقم سے دو جدید سکول تعمیر کئے جائیں اوربقیہ رقم سے سکولوں کا انتظام چلایا جائے ۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں یہ دونوں سکولیں اولین سکول کا درجہ رکھتی ہیں اس سے قبل اس پورے علاقے میں باقاعدہ اور باضابطہ سکولوں کا تصور نہیں تھا۔1946میں قائم کردہ ان دو سکولوں کا نام ڈائمنڈجوبلی سکول رکھا گیا جن کی تعدادآج موجودہ دور میں بڑھ کے سینکڑوں کے ہندسے میں داخل ہوگئے ہیں جب ان سکولوں کے دیکھادیکھی گلگت بلتستان میں سرکاری و نجی سکولوں نے بھی تعلیم کے لئے قدم اٹھایا ۔

سرسلطان محمد شاہ آغاخان سوئم کی اپنی ڈائمنڈجوبلی کے موقع پر یہ اقدام گلگت بلتستان میں تعلیم کے بنیاد ڈالنے کا سبب بنا اور یقینی بات ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ اور علاقہ ترقی نہیں کرسکتا ہے ۔ ان سکولوں سے اب تک ایک ہزار سے زائد طلباء و طالبات سکالرشپ حاصل کرچکے ہیں اور تعلیم سے فراغت پانے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہیں۔

ڈائمنڈجوبلی سکولز کے حوالے سے آغان خان ایجوکیشن کے سینئر منیجرز شاہ اعظم اور بلبل خان نے گزشتہ روز ’ڈائمنڈجوبلی سے ڈائمنڈجوبلی تک‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ ’ڈائمنڈجوبلی سے ڈائمنڈجوبلی تک‘کا تصور آغا خان ایجوکیشن سروسز گلگت بلتستان پاکستان نے دیا تھا جس میں حاضر امام ہزہائینس پرنس کریم آغا خان اور سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کے ڈائمنڈ جوبلی کو ملاکے منایا گیا ۔ اور یہ ایک خوبصورت ملاپ تھا کہ آغا خان سوئم نے اپنے ڈائمنڈجوبلی میں گلگت بلتستان میں سکول اور تعلیم کی بنیاد ڈالی جبکہ ہزہائینس پرنس کریم آغا خان (موجودہ امام) اپنے ڈائمنڈ جوبلی کی تقریب میں اس عہد اور اس مشن کی تکمیل کے لئے پر عزم نظر آئے ۔

ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کی ڈائمنڈجوبلی 11جولائی 2017میں منائی گئی ۔ جبکہ اس حوالے سے ہزہائینس پرنس کریم آغا خان نے گلگت بلتستان کا دورہ دسمبر میں کیا جہاں انہوں نے یاسین غذر اور ہنزہ میں اپنے پیروکاروں کو شرف دیداری بخشی اور خطاب بھی کیا ۔ ڈائمنڈجوبلی کے حوالے سے حکومت پاکستان نے انہیں باقاعدہ دعوت دی تھی جو کہ 13دنوں پر محیط تھا ۔دورے کے موقع پر انہوں نے چترال ، غذر، ہنزہ اور کراچی میں اپنے پیروکاروں کو شرف دیداری بخشی ۔

گلگت بلتستان میں دیداری کا موقع نہ صرف اسماعیلی مسلمانوں کے لئے بلکہ یہاں پہ بسنے والے تمام مسلمانوں کے لئے نہایت خوشگوار لمحہ تھا ۔ دیداری کا انتظام ضلع غذر کے علاقے یاسین میں مورخہ 10دسمبر جبکہ ضلع ہنزہ کے علاقے علی آباد میں بھی اسی روز دوپہر کے وقت تھا ۔ جس کے لئے گلگت بلتستان بھر سے اسماعیلی مسلمان اپنے روحانی پیشوا کی دیداری کے لئے گھر بار چھوڑ کر کئی روز پہلے ہی ’خیمہ زن ‘تھے۔ اس دوران گلگت بلتستان میں بسنے والے تمام افراد نے نہ صرف اسماعیلی مسلمانوں کے گھروں کی حفاظت کی زمہ داری لے لی بلکہ ہز ہائینس کا شاندار استقبال بھی کیا ۔ ضلع غذر میں بسنے والے اہلسنت برادری نے اسماعیلی والنٹیئرز کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا اور یاسین میں یہاں تک کہ دیدار کے لئے آنے والے زائرین کے لئے گھروں کے دروازے بھی کھول دئے ۔

ضلع ہنزہ میں دیدار ی کے لئے شاہراہ قراقرم پر ٹریفک کی روانی کے لئے امامیہ سکاؤٹس نے مکمل زمہ داری لی اور اس زمہ داری کو بخوبی احسن طریقے سے سرانجام دیا ۔ جس کا مقامی سطح پر ریجنل کونسل نے برملا اعتراف بھی کیا ۔ ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان 10دسمبر کو چترال سے بذریعہ ہیلی کاپٹر یاسین آئے جہاں پر شرف دیدار ی بخشنے کے بعد گلگت ائیرپورٹ پر اترے ۔ جہاں پر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اپنے کابینہ ممبران کے ہمراہ جبکہ

چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز (سابق)انتظامیہ کے زمہ داران کے ہمراہ استقبال کے لئے موجود تھے۔ جبکہ فورس کمانڈر ایف سی این اے میجر جنرل ثاقب محمود سیکیورٹی کے امور پر معمور تھے اور تمام حالات کا ازخود جائزہ لے رہے تھے۔ گلگت میں مختصر قیام کے دوران انہوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے ساتھ مختلف شعبہ جات میں باہمی تعاون پر رضا مندی ظاہر کی اور گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ’گلگت بلتستان میں امن و امان اور معیشت کی صورتحال سے وہ بے خبر نہیں ہیں‘۔ شرف دیداری بخشنے کے بعد ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان نے اپنے پیروکاروں کو دیگر مسالک کے ساتھ ہم آہنگی پرزور دیا ۔

جس طرح آغا خان سوئم سرسلطان محمد شاہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اسی طرح سماجی ترقی ، تعلیم اور صحت کے میدان میں ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔ 1982-83میں قائم کردہ AKRSP اب تک اس خطے میں اربوں مالیت کے منصوبے مکمل کرچکا ہے جس کا بنیادی مقصد دیہی علاقوں میں ترقی اور بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے ۔

سپیکر جی بی اسمبلی فدا محمد ناشاد کہتے ہیں کہ جب پہلی بار اے کے آر ایس پی کا قیام عمل میں لایا گیا تو میں ضلع کونسل سکردو کا چیئرمین تھا ، میں نے اے کے آر ایس پی کو سکردو تک توسیع دینے کے حوالے سے درخواست دی جسے ریجنل انچارج شعیب سلطان خان نے وصول کی اور منظوری کے لئے آگے بھیج دیا جس کے جواب میں ہزہائینس پرنس کریم آغا خان نے کہا کہ اے کے آر ایس پی کو سکردو تک توسیع دینے میں کوئی دشواری نہیں ہے مگر اس کی توسیع سے قبل علاقے کے تمام زعماء اور علماء سے اس کی توثیق کرائی جائے میں نہیں چاہتا ہوں کہ اس بنیاد پر کسی قسم کا نقص امن یا کوئی اور معاملہ پیش ہوجائے ۔ جس پر میں (فداناشاد) نے سکردو کے تمام مکاتب کے علماء کو اکھٹا کرکے اس حوالے سے رائے لی تو سب نے اپنے دستخط کردئے جس کے بعد باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اے کے آر ایس پی سے ان تمام علاقوں نے استفادہ حاصل کیا ہے جنہوں نے خواہش کی ہے ۔

ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کے دورہ گلگت کے حوالے سے راقم نے قومی اخبار ایکسپریس کے بلاگ میں کالم بھیجا تھا جو اگر چہ چھپ گیا تاہم چند روز میں ہی دوبارہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر بلاگ سے ہٹایا گیا جس کی خبر بھی بڑی دیر سے ملی ۔ ’ڈائمنڈجوبلی سے ڈائمنڈجوبلی تک ‘تقریب میں شرکت کرکے یہ خیال دوبارہ زندہ ہوگئی کہ موضوع اب بھی قابل اشاعت ہے اور اتفاق سے ڈائمنڈجوبلی (موجودہ امام) کی پہلی سالانہ تقریب بھی 11جولائی کو منعقد ہورہی تھی جس پر یہ کالم رقم کیا ہے اور بنیادی مقصد انسانیت کے لئے کام کرنے والے ان شخصیات کی خدمات کو سراہنا ہے۔

فہیم اختر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے میڈیا کمیونیکیشز میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد روزنامہ کے ٹو اور روزنامہ سماؐ اسلام آباد سے منسلک ہیں۔ ساتھ ہی وہ پاکستان فیڈرل کونسل برائے کالمسٹ جی بی کے صدر بھی ہیں۔

Advertisement
Click to comment

کالم

ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان کی سر زمین ہنزہ میں پہلی بار آمد کی سالگرہ

سیما کرن

Published

on

ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان کے سر زمین ہنزہ پہلی بار آمد کی سالگرہ منایا جا رہا ہے۔ 1960 سے پہلے پوری دنیا کے بیشتر ممالک سمیت ارض شمال میں غربت کی انتہا تھی۔ 1957 میں پرنس کریم آغا خان کے تخت نشینی کے بعد وسط ایشیا میں اداروں کا جال بچھانا شروع کیا۔ ان میں تعلیم اور صحت کو اولین ترجیح دی گئی۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں کو وسعت دی گئی۔ اس سلسلے میں آغا خان فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جن کے ذیلی ادارواں میں تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کے لئے دن رات کام کیا گیا۔ جدید خطوط پر زرعی اجناس اور لائیو اسٹاک کی نئی نسل پر تحقیق کر کے موسم سے مطابقت رکھنے والے اقسام متعارف کرایا گیا جس سے پیداوار اور ان سے ہونے والی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زراعت کی طرف حالات کی مناسبت رجحان کم ہوا۔

فرسٹ مائیکرو فنانس بنک کا قیام ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان کی دور اندیش معاشی حکمت عملی کے مرہون منت ہے جس نے نچلی سطح پر گھریلو صنعتوں کی جانب راغب کیا اور قرضوں کا اجراء کیا۔ اس طرح علاقے کی مجموعی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور لوگوں کا معیار زندگی میں بہتری آنے لگی۔ لوگوں میں اجتماعی سوچ کے ساتھ نئی ترقیاتی حکمت عملی کے تحت ہر گاوں کے سطح پر تنظیمات بنائے گئے جہاں ہر فیصلہ اجتماعی ہوتا تھا۔

لوگوں کو اس بات کے لئے معاشی ماہرین نے کاروبار کے طریقوں وسائل اور تکنیکی مدد فراہم کی۔ ارض شمال میں بسنے والی آبادی نہایت کٹھن موسمی اور جغرافیائی حالات کا سامنا کرتی ہے مگر یہاں کے عوام کا معیار زندگی پاکستان کے کسی بھی شہر سے کم نہیں ہے۔ مختلف اداروں کے انتھک محنت کے ثمرات ہیں کہ آج کے دور میں ترقی کی رفتار تسلی بخش ہے۔ امید ہے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی اور ترقی کا سفر جاری رہےگا۔

Continue Reading

سماجی مسائل

گلگت بلتستان میں خود کشی کے اسباب اور تدارک

سیما کرن

Published

on

Seema Kiran - Gilgit-Baltistan Journalist

گلگت بلتستان کے دل دہلانے والے خود کشی کے پے در پے واقعات نے آج مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ گلگت بلتستان کی دنیا بھر کے لئے اس کی قدرتی حسن جفاکش لوگ اور مہمان نوازی کے لئے بہت مشہور ہے۔ گلگت بلتستان میں پچھلے کچھ دہائیوں سے جس رفتار سے ترقی ہوئی ہے اس کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ان مسائل میں خود کشی سر فہرست ہے جس کا تناسب پچھلے چند سالوں میں بہت بڑھا ہے۔

اس رجحان میں 2009 سے 2019 کے درمیان تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ خود کشی کا رجحان مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ ہے جن کی عمر 14 سے 32 سال ہے۔ ان واقعات نے ہر ذی شعور کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ہر سطح پر ان واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں حال ہی میں BBCکی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ضلع غزر میں ہر سال 20 خواتین خود کشی کر لیتی ہیں۔

مقامی پولیس سٹیشن سے جاری کردہ اعداد و شمار حقائق سے بہت کم ہیں کیونکہ مقامی لوگوں کے بیان کے مطابق ہر مہینہ 3 خواتین اوسطا خودکشی کر لیتی ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو قابل غور اور توجہ طلب ہے۔ ایسے کونسے حالات ہیں جن کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ ان معرکات کو جانچنے کے بعد ادراک کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے مختلف سطح پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

مفکرین کی رائے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومتی سرپرستی درکار ہوگی۔ اس امر کی نشاندہی کرنا ہوگی جس کی وجہ سے بے شمار نوجوانوں کی موت واقع ہوئی ہے اور یہ ایک قومی نقصان ہے۔اسی طرح ایک عام وجہ یہ بھی ہے کہ والدین کی معاشی حالات کمزور ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو ضروریات پوری نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ بچے بد دل ہو جاتے جو کہ خود کشی کا باعث بن جاتا ہے۔ اس طرح کے ان گنت وجوہات ہو سکتے ہیں۔

بحیثیت انسان اور اس معاشرے کا جز ہونے کے ناطے اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس طرح کے واقعات اور انکی وجوہات پہ غور کریں اور جب اپنے پیاروں میں ان عوامل کے آثار دکھائی دیں تو ان پر خصوصی توجہ دینا لازمی ہوتا ہے اور انکو مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے ہمت دینا ہوگا۔ خود کشی بزدل لوگوں کا کام ہے اور خود کشی ہر گز مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس طرف اس بڑھتے رجحان کو ختم کرنے اور گلگت بلتستان کی ا چھی تصویر دنیا کو دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس معاملے کے چند وجوہات اور بھی ہوسکتے ہیں مثلا بچوں کا والدین بہن بھائی دوست یا اساتذہ کے درمیان فاصلہ یعنی بچے اپنی بات کھل کر کسی کو نہیں بتاتے اور جن کے مشکلات اور مسائل کا حل نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ یوسکتی کہ والدین نے اپنے بچوں کو ناکامی سے خوف زدہ کر کے رکھا ہے .. ہم بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ فیل ہونا بری بات نہیں بلکہ ہمت ہارنے میں ناکامی ہے .. کیونکہ اکثر ایسے واقعات سننے کو ملے ہیں کہ چند بچوں نے میٹرک کا نتیجہ بُرا آنے کی وجہ سے خود کشی کیا۔

عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ جسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور افسردہ ہوجاتے ہیں۔ جیسے جیسے معاشرہ جدیدیت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ والدین بچوں کی ہر خواہش اور ضد پوری کرتے ہیں جس سے بچے خیالی دنیا میں دنیا میں رہنے لگتے ہیں مگر جب حقیقی دنیا سے انکا سامنا ہوتا ہے تو ان میں تلخی سہنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

Continue Reading

کالم

متفقہ بیانیہ اور مذہبی رنگ

فہیم اختر

Published

on

Faheem Akhtar blogger from Gilgit-Baltistan and Chitral

جنوری کے 17 تاریخ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات رکنی لارجر بنچ نے گلگت بلتستان کے متعلق اپنا مشہور فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے اور گلگت بلتستان اپنے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں استصواب روئے کے موقع پر بذریعہ ووٹ کرسکے گا ، تب تک گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کردئے جائیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے میں گوکہ نئی بات نہیں تھی مگر افواہوں اور افسانوی داستوں کی سخت الفاظ میں تردید تھی۔ حیلے بہانے بناکر قومی حقوق کا چیمپیئن بننے والوں کے تمام دلائل دریا ئے سندھ میں بہہ گئے تھے ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ قوم کے سامنے وہ تمام حضرات آکر معافی مانگ لیتے جن کے موقف کی سپریم کورٹ نے تردید کردی تھی ، کہ ماضی میں ایسے موقف نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو شش و پنج میں مبتلا کرکے رکھ دیا تھا ،لیکن ایسا کرنے کی بجائے پھر وہی حیلے بہانے اپنائے گئے کہ جی ہم نے مجبوراً یہ فیصلہ تسلیم کرلیا ہے ۔ ہمارا اب بھی مطالبہ وہی ہے ، ہم ریاست کو پریشان کرنا نہیں چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کویک زباں بناکر کوئی حکمت عملی بنائی جاتی ، ایسی حکمت عملی جس میں تعصب نہ ہو ، جس میں بغض ضد، جذباتیت اور فرقہ واریت کی بو بھی قریب تک نہ آسکے ۔ لیکن نادر لکھنوی کے بقول 

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوئے ہیں

کے مصداق یکایک تقسیم ہوگئے۔ اس بار گلگت بلتستان کو متفقہ بیانیہ دینے کا بیڑہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اٹھایا تھا جس نے اپوزیشن ممبران اور قوم پرست جماعتوں سے مل کر کمیٹی قائم کرکے 17فروری کو بذریعہ جلسہ متفقہ بیانیہ دینے کا اعلان کرلیا ۔ جلسے کی تاریخ قریب آتے ہی قوم پرست جماعتوں نے بائیکاٹ کا اعلان کردیا جس کی قیادت جی بی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عباس کررہے تھے۔ 

حقوق کی تلاش میں گمراہ عوام نے ایک مرتبہ پھر اتحاد چوک پر ڈیرے جمالئے ، جلسہ منعقد ہوا ، جلسہ ناکام نہیں تھا لیکن غیر معمولی بھی نہیں تھا،معزز مقررین کو شاید ایجنڈے کا معلوم ہی نہیں تھا اگر سادہ الفاظ میں جلسے کا خلاصہ پیش کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جلسے میں آئندہ ووٹ دیتے ہوئے ا حتیاط کرنے پر اتفاق کرلیا گیا۔یہ تھا وہ ایجنڈا جس پر سب نے اپنی تقاریر میں ’فوکس ‘ کیا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے گلگت بلتستان کی حیثیت پر بات کرتے ہوئے 90 فیصد لوگ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ انہیں ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ہے اس کی صاف ستھری وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاسی سرگرمیاں محدود رہی ہیں، جدوجہد کی مشق یہاں پر نہیں رہی ہے ۔ ریٹائرڈ اے سی مشتاق احمد نے تمام اہم مقررین سے قبل خطاب کیا اور حوالہ جات کے ساتھ تاریخی حقائق پیش کئے جو قانونی بیانیہ ہے لیکن اس بیانیہ کو ’متفقہ ‘ کا تحفظ حاصل نہیں ہوسکا کیونکہ کسی نے بھی اس پر اتفاق نہیں کیا ۔

یہ بھی دیکھیں:

گلگت بلتستان کے عوام کا اگر حقیقی بیانیے کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ مراعات کا مطالبہ اور ٹیکس چھوٹ ہے۔ یہ عوام ،جن کی قیادت ’قائدین ‘کے پاس ہے، اب قومی اسمبلی میں نمائندگی سے خوف کھاتی ہے کیونکہ وہ اس نمائندگی کی بنیاد پر لگنے والے ٹیکسز سے ڈرتے ہیں۔ وہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ چاہتے ہیں جس میں زیادہ سے زیادہ سبسڈیز دی جارہی ہیں۔ بہرحال صاف ستھرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ جلسہ ناکام بھی نہیں تھا غیر معمولی کامیاب بھی نہیں تھا لیکن متفقہ بیانیہ کا نعرہ ایک ڈھونگ تھا ۔

اشکومن میں طالبعلم دیدار حسین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کیس میں محکمہ پولیس گلگت بلتستان نے انتہائی متحرک کردار ادا کیا ہے ، تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ گلگت بلتستان سے باہر بیٹھے لوگوں کو آج کل گلگت بلتستان کے معاملات پر بولنا آسان لگتا ہے کیونکہ یہاں کے زمینی حقائق اور لوگوں کے رویوں سے باخبر نہیں ہیں۔ طالبعلم دیدار حسین کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بلاشبہ درندگی کی بدترین مثال ہے لیکن اس سے قبل ایسا ہی واقعہ گلگت میں بھی پیش آیا تھا۔

دیدار حسین کے ورثاء کی جانب سے نامزدکردہ اور دوران تفتیش ملوث ہونے کا انکشاف پر تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا لیکن انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی سازش کی گئی ہے ۔بلاشبہ ظالموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے ، جب انسانیت سے بھی لوگ نیچے گر جائیں تو اس میں مذہبی شلٹر کی تلاش اورشناخت کرنا نادانی کی بات ہے ۔ طالبعلم دیدار حسین کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لئے رابطہ کمیٹی اشکومن نے احتجاجی جلسے کا اعلان کرلیا ، جس کے روح رواں اشکومن سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے رہنماء ظفر محمد شادم خیل تھے جبکہ میر نوازمیر بھی اس معاملے میں انتہائی متحرک تھے، بقول حلقہ ممبر نواز خان ناجی اس جلسے کی بنیاد پر فورس کمانڈر نے نوٹس لیا تب تک حکومت کو خیال ہی نہیں آیا۔جلسے میں اہلسنت والجماعت کے مقامی خطیب نے اپنی رائے دی کہ اس معاملے میں دیت کی بنیاد پر صلح کرائی جائے ، جسے مقررین نے مسترد کرتے ہوئے سزا کا مطالبہ کیا.

دونوں طرف کے مقررین کی زاتی رائے تھی، بس معاملے کو مذہبی رنگ دیدیا گیا، یہاں تک کہ اتحاد بین المسلمین کے ایک نام نہاد داعی نے اس واقعہ کو وزیراعلیٰ جی بی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ الرحمن کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مسلک کا مولوی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ ہے۔ دیدار حسین کے قتل کے بعد اگر سب سے زیادہ جس بات پر افسوس اور مذمت کیا جانا چاہئے وہ یہی ہے کہ اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کیپٹن شفیع صاحب نے بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی مذمت کی لیکن معلوم نہیں کس زمرے میں ۔ یہ انتہادرجے کی گھٹیا معاشرتی سوچ ہے جہاں پر بدکاری جیسے بدترین افعال کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

قانون ساز اسمبلی کا 35 واں اجلاس کا پہلا روز اپنی نوعیت کے مطابق انوکھا اجلاس تھا۔ جس میں بغیر ایجنڈے کے اسمبلی اجلاس شروع کیا گیا ۔ 22اراکین پر مشتمل حکومتی بنچ سے صرف 7ممبرحاضر تھے، اسمبلی اجلاس دو مہینے کے بعد طلب کرلیا گیا تھا، اسمبلی اجلاس میں بھی دیدار واقعے پر بحث ہوئی ۔ 14 اراکین میں سے صرف غذر کے ممبران اسمبلی تھے جو دیدار حسین کی تعزیت کے لئے لواحقین کے پاس گئے تھے ۔

مذمت کرنے کے لئے سارے کھڑے ضرور تھے مگر نہ کسی کو وہاں جانے کی توفیق ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کو اس کیس کے بارے میں معلومات تھیں،صوبائی وزیر قانون اورنگزیب نے کچھ حد تک معلومات فراہم کی لیکن بعد میں کہا کہ میں کل ہی اسلام آباد سے آیا ہوں ایک دن مہلت دی جائے تمام معلومات لیکر آؤں گا۔ اراکین اسمبلی کی معلومات کے لئے پیش خدمت ہے کہ دیدار حسین واقعہ میں 10 ملزمان کی نشاندہی ہوچکی ہے جن میں سے آخری مرکزی ملزم بروز پیر گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ان تمام ملزمان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ لگایا گیا ہے ، انسداد دہشتگردی عدالت نے 10روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے ۔ 23فروری کو تمام تفتیش مکمل کرکے دوبارہ پیش کئے جائیں گے۔

دونوں طرف کے مقررین کی زاتی رائے تھی، بس معاملے کو مذہبی رنگ دیدیا گیا، یہاں تک کہ اتحاد بین المسلمین کے ایک نام نہاد داعی نے اس واقعہ کو وزیراعلیٰ جی بی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ الرحمن کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مسلک کا مولوی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ ہے۔ دیدار حسین کے قتل کے بعد اگر سب سے زیادہ جس بات پر افسوس اور مذمت کیا جانا چاہئے وہ یہی ہے کہ اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کیپٹن شفیع صاحب نے بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی مذمت کی لیکن معلوم نہیں کس زمرے میں ۔ یہ انتہادرجے کی گھٹیا معاشرتی سوچ ہے جہاں پر بدکاری جیسے بدترین افعال کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

قانون ساز اسمبلی کا 35 واں اجلاس کا پہلا روز اپنی نوعیت کے مطابق انوکھا اجلاس تھا۔ جس میں بغیر ایجنڈے کے اسمبلی اجلاس شروع کیا گیا ۔ 22اراکین پر مشتمل حکومتی بنچ سے صرف 7ممبرحاضر تھے، اسمبلی اجلاس دو مہینے کے بعد طلب کرلیا گیا تھا، اسمبلی اجلاس میں بھی دیدار واقعے پر بحث ہوئی ۔ 14 اراکین میں سے صرف غذر کے ممبران اسمبلی تھے جو دیدار حسین کی تعزیت کے لئے لواحقین کے پاس گئے تھے ۔ مذمت کرنے کے لئے سارے کھڑے ضرور تھے مگر نہ کسی کو وہاں جانے کی توفیق ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کو اس کیس کے بارے میں معلومات تھیں.

صوبائی وزیر قانون اورنگزیب نے کچھ حد تک معلومات فراہم کی لیکن بعد میں کہا کہ میں کل ہی اسلام آباد سے آیا ہوں ایک دن مہلت دی جائے تمام معلومات لیکر آؤں گا۔ اراکین اسمبلی کی معلومات کے لئے پیش خدمت ہے کہ دیدار حسین واقعہ میں 10 ملزمان کی نشاندہی ہوچکی ہے جن میں سے آخری مرکزی ملزم بروز پیر گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ان تمام ملزمان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ لگایا گیا ہے ، انسداد دہشتگردی عدالت نے 10روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے ۔ 23فروری کو تمام تفتیش مکمل کرکے دوبارہ پیش کئے جائیں گے۔

Continue Reading

مقبول تریں