Connect with us

ماحول

آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ اور جی بی گورنمٹ کے مابین قدرتی آفات سے نمٹنے کیلے معاہدے پر دستخط

جی بی اسٹاف

Published

on

آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ


آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ اور گورنمٹ آف گلگت بلتستان، نے مو سمیاتی تبدیلوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 50ملین درخت لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس بات کا اعلان منگل،بتاریخ 06 اکتوبر 2020 کو گلگت کے مقام پر منعقد کی جانے والے ایک اہم تقریب میں ہوا۔ جس میں دونوں ادارروں نے معاہدے پر دستخط کیے۔

پاکستان پچھلے دو دہا ئیوں سے مو سمیاتی تبد یلوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں دس نمبر پر آر ہا ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان کا زیادہ تر علا قہ پہاڑوں اور گلیشیزپر محیط ہے اس وجہ سے گلگت بلتستان قدرتی آفات کی زد میں رہتا ہے۔ ان آفات بشمول سیلاب،ڈیبیرز فلو، لینڈ سلائیڈنگ اور گلشیز کے پگھلنے سے بنے والے جھیل وغیرہ شامل ہیں۔ آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ اور گورنمٹ آف گلگت بلتستان کا یہ مشتر کہ پراجیکٹ ہے جو کہ شجرکاری کے ذریعے کاربن Emission کو کم کرنے، خطرے سے دوچار ڈھلوانوں کو مضبوط بنانے اور علاقے میں مو سمیاتی تبد یلی سے رو نما ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے مقاصد کو حاصل کرے گی۔

محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف، آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کی تکنیکی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں تقریبا 300 مقامات پر پودے لگائے گی جبکہ آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ ایسے مقامات میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں واٹر سپلائی کے نظام کی تعمیر میں تکنیکی مدد فراہم کرے گی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب شاہد زمان، سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات نے کہا کہ ہم آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کے مشکور ہیں جو ہمیں تکنیکی مدد فراہم کریں گی اور اس پرو جیکٹ کے زریعے مو سمیاتی تبدیلوں کے ا ثرا ت کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر ے گی۔ حکومت گلگت بلتستان آ غا خان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کے خدمات کو سراہتی ہے۔ جو اے۔کے۔ڈی۔این نے پچھلے کئی سالوں میں علاقے کی ترقی کے لیے کیا ہے اور مزیدکر رہا ہے۔ آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کے مضبوط انفراسٹر کچر کی تعمیر اور ماحولیاتی تبدیلوں کے ا ثرا ت کو کم کرنے والے پروگرامز نے پہلے ہی علاقے میں کافی تبدیلی لائی ہے۔ اورہم اس شراکت داری کے زریعے مستقبل میں بڑے اثرات کی تواقع کرتے ہیں۔

نواب علی خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر، آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ا ٓغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ ، محکمہ جنگلات کے ساتھ اس اشترک کو اہم سمجھتی ہے کیونکہ یہ پراجیکٹ اے۔ کے۔ ڈی۔ این،کی مو سمیاتی تبد یلی کی حکمت عملی اور حکومت پاکستان کے ویژن کے حصول میں مدد گار ثابت ہوگی۔ یہ پروجیکٹ گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اے ۔کے۔ ڈی۔ این کے وسیع تر کام اور مہارت پر استوار ہے۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آغا خان کو نسل برائے پاکستان کے صدر، جناب حافظ شیر علی نے کہا کہ مجھے آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کی گلگت بلتستان کی تر قی کے لیے گورنمٹ کے ساتھ شراکت داری پر بہت خوشی ہے۔ جو علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اور یقینی طور پر یہ مشتر کہ کو شش پاکستان کے عوام کی معیار زندگی کو بڑھانے میں اپنا بہت اہم کردار ادا کرئے گی۔ ِِ

جی بی اسٹاف آپ کو گلگت بلتستان اور چترال کی تازہ ترین حالات حاضرہ سے باخبر رکھتے ہیں۔

Advertisement
Click to comment

سماجی مسائل

ہم نے اپنے گھروں کو ڈوبتے دیکھا

الطاف یش

Published

on

لینڈ سلائڈنگ کا مخصوص وقت ہوتا ہے جو کہ اپریل سے ستمبر کے پہلے ہفتے تک رہتا ہے جس میں آسمانی بجلی کی گرج چمک اور تیز بارش کے باعث پہاڑوں پہ گری آسمانی بجلی اپنے سامنے آنے والی ہر چیز درخت پتھر مٹی کھیت گھر جانور انسان کو اپنے ساتھ ملا کے انتہائی خوفناک شکل میں دریا تک پہنچتی ہے۔ اس کی وجہ سے دور تک زلزلے کی جیسی ڈراؤنی آواز آتی ہیں اور سننے والا ہر شخص کانپے لگتا ہے۔

2 ستمبر کی شام ہمارے محلے میں اندزہ ہونے لگا کہ سیلاب کا خطرہ ہے کیونکہ پچھلے 48 گھنٹوں سے بارش بلکل رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ سب لوگ خوف اور پریشانی میں تھے۔بارش تیز سے تیز ہو رہی تھی۔ میں گھر سے کچھ فاصلے پر ایک پیٹرول پمپ کے ساتھ جو کہ پہاڑ سے آنے والا بارش کے پانی کا راستہ ہے وہاں بار بار جا کر معائنہ کرتا رہا۔ رات کے تقریبا ساڑھے بارہ بجے مجھے اندازہ ہوگیا کہ پانی کی مقدار زیادہ ہو رہی ہے۔محلے کے تقریبا سارے ہی لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔

دو دوستوں کے علاوہ میرا کسی کے ساتھ رابطہ نہ ہو سکا پھر میں گھر میں اپنے کمرے میں لیٹا گھر کی چھت پہ بارش کے تیز رفتار قطروں نے سونے نہ دیا۔ کچھ ٹائم بعد میں موبائل میں نے ٹائم دیکھا تو رات کے 03:13 بجھ گئے تھے۔ موبائل سرہانے کے ساتھ رکھا ہی تھا کہ کال آئی۔ کال اٹھایا تو ایک دوست نے کہا لہ جلدی سے اپنے گھر والوں کع باہر نکالو سلائڈنگ ہورہی ہے اور سیلاب کا رخ ہمارے محلے کی جانب ہے۔

اس وقت کا خوف اور ڈر شاید ہی بیان نہیں کرسکوں۔ جلدی سے اٹھا، سارے گھر والوں کو جگایا اور بڑی مشکل سے صرف ایک دوست کو کال لگی جسے میں نے خبردار کیا۔ تھوڑی دیر بعد نیٹ ورک نے بھی جواب دے دیا اور کسی کو کال نہ کر سکا۔ میں گھر والوں کو باہر نکالنے دروازے پر نکلا تو دیکھا کہ سیلابی پانی دروازے تک پہنچ چکا ہے۔

گھر والوں بمشکل باہر نکالنے لگا اور دادی اماں جن کی عمر تقریباً 120 برس ہے انھیں لینے آندھرے میں گھر دوبارہ داخل ہوا تو محلے کے ہر طرف سے چیخ پکار کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔

باہر کافی لوگ ننگے پاوں تھے اور زیادہ تر لوگ نیند کی حالت میں تھے۔ سردی بھی تھی اور بارش تیز سے تیز ہو رہی تھی جبکہ سیلابی پانی اور لوگوں کی آوازیں دور تک گھونج رہی تھیں۔ یہ ایسا قیامت خیز منظر تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گھر والوں کو محلے سے باہر محفوظ مقام پر نکالنے کے بعد کچھ اہم اشیاء لینے جب دوبارہ گھر کی طرف جانا چاہا تو دیکھا کہ سارا محلہ پانی میں ڈوب چکا ہے اور کسی صورت گھر پہنچنا ممکن نہیں۔ کچھ وقت انتظار کے بعد آخر بڑی مشکلوں سے اپنے چھوٹے بھائی اور کچھ دوست سمیت ایک دوسروں کے ہاتھ پکڑھ کر گرتے ڈوبتے ہوئے گھر تک پہنچے۔ گھر کے سارے کمروں میں پانی بھر چکا تھا۔ ایک کھڑکی کی جالی پھاڑ کر اندر داخل ہوئے اور اپنے ضروری دستاویزات، کاغذات اور نقدی رقم نکالنے میں کامیان ہوئے۔ واپسی پر دیکھا کہ پانی کا بہاؤ اور زیادہ ہو رہا ہے اور ساتھ ہی بارش بھی تیز ہو چکی تھی۔ رستے میں ایک اور دوست سے بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گھر کی دیواریں گر چکی ہیں اور ہم بمشکل اپنی جان بچا کر وہاں سے نکلے ہیں۔

صبح ہوئی تو پتا چلا محلے کے 64 گھرانے سیلاب کی زد میں میں آچکے ہیں۔ محلے کے کم و بیش سارے رہائشی بےگھر ہوچکے تھے۔ بعض نے اپنے دوست رشتہ داروں کے گھر اور بعض نے ہوٹلوں میں 3 دن گزارے اور حالات جب بہتر ہوئے تو اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ محلے کی کوئی گلی سڑک مکان سلامت نہیں رہا تھا۔ حکومت کی طرف سے کوئی امدادی کاروائی نہ ہونے کے بعد محلے والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کا کام شروع کیا اور تاحال جاری ہے۔

Continue Reading

پاکستان

آکا پاکستان اور گلگت بلتستان حکومت کے مابین سنٹرل ہنزہ میں پانی کے منصوبے کے لیے شراکت داری کا معاہدہ

جی بی اسٹاف

Published

on

آکا پاکستان اور گلگت بلتستان گو رنمٹ کے مابین سنٹرل ہنزہ کے لیے پانی کے منصوبے کے لیے شراکت داری کے معاہدہ

آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ، پاکستان ،گو رنمٹ آف گلگت بلتستان اور ہنزہ کی ضلعی انتظامیہ کے مابین سینٹرل ہنزہ کے لیے پانی کی فراہمی کے ایک بڑے منصوبے کے لیے شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔

آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ، پاکستان نے گو رنمٹ آف گلگت بلتستان کے ساتھ شراکت داری کی یاداشت پر دستخط کیے جس کے تحت عطاآباد جھیل سے سینٹرل ہنزہ کے ایک بڑے حصے کوگھر یلو اور تجارتی مقا صد کیلے پانی کی فراہمی کرنے کے لیے فز یبلٹی اسٹڈ ی Feasibility studyکی جائے گی. اس Feasibility study کے تحت جہاں آبادی اور سیاحوں کی تعداد میں اضافے کو مدنظر رکھا جائے وہاں اس سکیم کے ا نفراسکٹچر کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے درکار اسٹڈی بھی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ہنزہ میں بروز بدھ، 7 اکتوبر2020 کو گو رنمٹ آف گلگت بلتستان،ضلعی انتظامیہہنزہ اور آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ کے مابین اس مطالعے کے لیے یاداشت پر دستخط ہوئے۔ جس میں حکومت گلگت بلتستان کی جناب سے گلگت بلتستان کے ایڈشینل چیف سکریٹری جناب سید ابرار حسین شاہ، جناب فیاض آحمد،ڈپٹی کمشنر ہنزہ، جناب نواب علی خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر، آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ پاکستان، سوسائٹی کے نمائندوں اور اے۔کے۔ڈی۔این کے لیڈرز نے شرکت کی۔

سینٹر ہنزہ کو پانی کی شدید قلت کا سامنہ ہے کیونکہ اس کی بیشتر آبادی پانی کی ضرورت کو دو گلشیز اور ان سے جڑے ندیاں (حسن آباد نالے اور التر نالے) سے پورا کر رہی ہے اور ان گلشیز پر حالیہ برفانی جھیل بنے اور ا ن کے پھٹنے کے واقعات نے پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور دیگر معاشرتی انفراسٹر یکچر پر بہت اثر ڈالا ہے۔ جبکہ گھریلو استعمال کے پانی کی شدید قلت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں تیز رفتار نشونما خصو صاً سیاحت میں اضافے کی وجہ سے پانی کی قلت کا یہ معاملہ اب شدت اختیار کر گیا ہے۔ لہذا آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو استعمال کر تے ہوے ان خطرات کے تشخیص کرنے میں گو رنمٹ آف گلگت بلتستان اور ہنزہ انتظامیہ کو Feasibility Study کرنے اور واٹر سپلائی ڈیزئن کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

اس موقع پر گلگت بلتستان کے ایڈشینل چیف سکریٹری جناب سید ابرار حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت علاقے اور اس کی عوام کی ترقی کے لے ہمیشہ گامزن ہے۔ ہم آغاخان ڈولپمنٹ نیٹ ورک کا شکر گزار ہیں کہ وہ متعد ترقیاتی منصوبوں کا ادراک کر رہی ہے جس میں غربت کو کم کرنے اور کمیو نٹی کو با اختیار بنانے کے پروگرامزشامل ہیں۔ ہم بہت سے ترقیاتی اقدامات خصوصاً موسیماتی تبدیلیوں اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے اُمور کو حل کرنے کے لیے گو رنمٹ آف گلگت بلتستان کی طرف سے آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ کے تعاون کو سہراہتے ہیں۔

اپنے خطاب میں جناب فیاض آحمد،ڈپٹی کمشنر ہنزہ،نے کہا ہے اس ترقیاتی پراجیکٹ میں آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ کے ساتھ تعاون سے تجارت گاہوں،ہیلتھ سینٹر اور دیگر سکولوں اور تقر یبا 5500 گھرانوں کو صاف پانی ی فراہمی کو یقینی بنائے گی جس میں ہنزہ کے آٹھ بستیاں التت، فیض آباد، گنیش، گریلت، دوکھن اور علی آباد کے علاقو ں کو فائدہ ہو گا۔ اس Feasibilty Study کے تحت نہ صرف پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کیا جائے گا بلکہ سینٹرل ہنزہ میں سیا حت کو فروغ ملے گی۔

جناب نواب علی خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ پاکستان اپنے تاثرات میں کہا کہ حکومت پاکستان اور اے۔کے۔ ڈی۔ این پاکستان کی ترقی اور یہاں کی عوام کی معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے ہمیشہ کوشاں ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ اے۔ کے ۔ڈی۔ این، حکومت کی جانب سے تمام تر تعاون کا شکر گزار ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں ،آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ پاکستان نے پانچ لاکھ 500,000لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت فراہم کیا ہے جس سے نہ صرف لوگوں کی صحت اچھی ہوتی ہے بلکہ معاشی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور لڑکیوں کا دور دراز جگہوں سے پانی لانیکی مشقت میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

Continue Reading

خبریں

سیڈو اور حکومت کی سموک فری گلگت بلتستان مہم کامیابی سے جاری

رحیم امان

Published

on

ہنزہ (رحیم امان) “سیڈو گلگت بلتستان کی نئی نسل کو تمباکو نوشی سے دور رکھنے کی کاوشوں کو سہراتے ہیں حکومت بھی نوجوانوں کو تمباکو نوشی جیسی لعنت سے دور رکھنے کی ان کوششوں میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور ملکی قوانین پر عملدآمد کروانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔” منصورشریف صدر بلتت یوتھ آگنائزیشن
گلگت ڈویژن میں غیرسرکاری اور فلاحی ادارہ سیڈو اور حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے جاری مہم تمباکو سموک فری گلگت بلتستان کامیابی سے جاری ہے اس مہم کو گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ ساتھ یہاں کے مذہبی،سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سراہااور معاونت کی جا رہی ہے۔

ماضی میں ہنزہ میں نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے کے لیے حکومت کا کوئی مثبت کردار نہیں رہا ہے اب سیڈو گلگت بلتستان اور حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے ایک سنجیدہ کو شش کی گئی ہے جس کو ہم کریم آباد ہنزہ کے نوجوان اور ہماری تنظیم بلتت یوتھ آگنائزیشن سراہتے ہیں اس مہم میں بحیثیت صدر بلتت یوتھ آگنائزیشن کے بھرپور معاونت کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار منصورشر یف صدر بلتت یوتھ ارگنائزیشن نے بلتت یوتھ آگنائزیشن لائبریری میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، کم عمر بچوں کو تمباکو نوشی سے دور رکھنے کے متعلق موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے اور اس کام کے لیے ضلعی انتظامیہ اپنا مثبت کردار ادا کرے۔اس موقع پر بلتت یوتھ آگنائزیشن (بی وائے او) کے دیگر عہداداران اور ممبران بھی موجود تھے۔

Continue Reading

مقبول تریں