Connect with us

کالم

متفقہ بیانیہ اور مذہبی رنگ

فہیم اختر

Published

on

Faheem Akhtar blogger from Gilgit-Baltistan and Chitral

جنوری کے 17 تاریخ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے سات رکنی لارجر بنچ نے گلگت بلتستان کے متعلق اپنا مشہور فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے اور گلگت بلتستان اپنے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں استصواب روئے کے موقع پر بذریعہ ووٹ کرسکے گا ، تب تک گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کردئے جائیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے میں گوکہ نئی بات نہیں تھی مگر افواہوں اور افسانوی داستوں کی سخت الفاظ میں تردید تھی۔ حیلے بہانے بناکر قومی حقوق کا چیمپیئن بننے والوں کے تمام دلائل دریا ئے سندھ میں بہہ گئے تھے ۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ قوم کے سامنے وہ تمام حضرات آکر معافی مانگ لیتے جن کے موقف کی سپریم کورٹ نے تردید کردی تھی ، کہ ماضی میں ایسے موقف نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو شش و پنج میں مبتلا کرکے رکھ دیا تھا ،لیکن ایسا کرنے کی بجائے پھر وہی حیلے بہانے اپنائے گئے کہ جی ہم نے مجبوراً یہ فیصلہ تسلیم کرلیا ہے ۔ ہمارا اب بھی مطالبہ وہی ہے ، ہم ریاست کو پریشان کرنا نہیں چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ 

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد گلگت بلتستان کے 20لاکھ عوام کویک زباں بناکر کوئی حکمت عملی بنائی جاتی ، ایسی حکمت عملی جس میں تعصب نہ ہو ، جس میں بغض ضد، جذباتیت اور فرقہ واریت کی بو بھی قریب تک نہ آسکے ۔ لیکن نادر لکھنوی کے بقول 

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازوں میرے آزمائے ہوئے ہیں

کے مصداق یکایک تقسیم ہوگئے۔ اس بار گلگت بلتستان کو متفقہ بیانیہ دینے کا بیڑہ عوامی ایکشن کمیٹی نے اٹھایا تھا جس نے اپوزیشن ممبران اور قوم پرست جماعتوں سے مل کر کمیٹی قائم کرکے 17فروری کو بذریعہ جلسہ متفقہ بیانیہ دینے کا اعلان کرلیا ۔ جلسے کی تاریخ قریب آتے ہی قوم پرست جماعتوں نے بائیکاٹ کا اعلان کردیا جس کی قیادت جی بی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عباس کررہے تھے۔ 

حقوق کی تلاش میں گمراہ عوام نے ایک مرتبہ پھر اتحاد چوک پر ڈیرے جمالئے ، جلسہ منعقد ہوا ، جلسہ ناکام نہیں تھا لیکن غیر معمولی بھی نہیں تھا،معزز مقررین کو شاید ایجنڈے کا معلوم ہی نہیں تھا اگر سادہ الفاظ میں جلسے کا خلاصہ پیش کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام جلسے میں آئندہ ووٹ دیتے ہوئے ا حتیاط کرنے پر اتفاق کرلیا گیا۔یہ تھا وہ ایجنڈا جس پر سب نے اپنی تقاریر میں ’فوکس ‘ کیا۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے گلگت بلتستان کی حیثیت پر بات کرتے ہوئے 90 فیصد لوگ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ انہیں ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی ہے اس کی صاف ستھری وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاسی سرگرمیاں محدود رہی ہیں، جدوجہد کی مشق یہاں پر نہیں رہی ہے ۔ ریٹائرڈ اے سی مشتاق احمد نے تمام اہم مقررین سے قبل خطاب کیا اور حوالہ جات کے ساتھ تاریخی حقائق پیش کئے جو قانونی بیانیہ ہے لیکن اس بیانیہ کو ’متفقہ ‘ کا تحفظ حاصل نہیں ہوسکا کیونکہ کسی نے بھی اس پر اتفاق نہیں کیا ۔

یہ بھی دیکھیں:

گلگت بلتستان کے عوام کا اگر حقیقی بیانیے کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ مراعات کا مطالبہ اور ٹیکس چھوٹ ہے۔ یہ عوام ،جن کی قیادت ’قائدین ‘کے پاس ہے، اب قومی اسمبلی میں نمائندگی سے خوف کھاتی ہے کیونکہ وہ اس نمائندگی کی بنیاد پر لگنے والے ٹیکسز سے ڈرتے ہیں۔ وہ کشمیر طرز کا سیٹ اپ چاہتے ہیں جس میں زیادہ سے زیادہ سبسڈیز دی جارہی ہیں۔ بہرحال صاف ستھرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ جلسہ ناکام بھی نہیں تھا غیر معمولی کامیاب بھی نہیں تھا لیکن متفقہ بیانیہ کا نعرہ ایک ڈھونگ تھا ۔

اشکومن میں طالبعلم دیدار حسین کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کیس میں محکمہ پولیس گلگت بلتستان نے انتہائی متحرک کردار ادا کیا ہے ، تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔ گلگت بلتستان سے باہر بیٹھے لوگوں کو آج کل گلگت بلتستان کے معاملات پر بولنا آسان لگتا ہے کیونکہ یہاں کے زمینی حقائق اور لوگوں کے رویوں سے باخبر نہیں ہیں۔ طالبعلم دیدار حسین کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بلاشبہ درندگی کی بدترین مثال ہے لیکن اس سے قبل ایسا ہی واقعہ گلگت میں بھی پیش آیا تھا۔

دیدار حسین کے ورثاء کی جانب سے نامزدکردہ اور دوران تفتیش ملوث ہونے کا انکشاف پر تمام ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا لیکن انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس واقعہ کو مذہبی رنگ دینے کی سازش کی گئی ہے ۔بلاشبہ ظالموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے ، جب انسانیت سے بھی لوگ نیچے گر جائیں تو اس میں مذہبی شلٹر کی تلاش اورشناخت کرنا نادانی کی بات ہے ۔ طالبعلم دیدار حسین کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کے لئے رابطہ کمیٹی اشکومن نے احتجاجی جلسے کا اعلان کرلیا ، جس کے روح رواں اشکومن سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کے رہنماء ظفر محمد شادم خیل تھے جبکہ میر نوازمیر بھی اس معاملے میں انتہائی متحرک تھے، بقول حلقہ ممبر نواز خان ناجی اس جلسے کی بنیاد پر فورس کمانڈر نے نوٹس لیا تب تک حکومت کو خیال ہی نہیں آیا۔جلسے میں اہلسنت والجماعت کے مقامی خطیب نے اپنی رائے دی کہ اس معاملے میں دیت کی بنیاد پر صلح کرائی جائے ، جسے مقررین نے مسترد کرتے ہوئے سزا کا مطالبہ کیا.

دونوں طرف کے مقررین کی زاتی رائے تھی، بس معاملے کو مذہبی رنگ دیدیا گیا، یہاں تک کہ اتحاد بین المسلمین کے ایک نام نہاد داعی نے اس واقعہ کو وزیراعلیٰ جی بی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ الرحمن کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مسلک کا مولوی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ ہے۔ دیدار حسین کے قتل کے بعد اگر سب سے زیادہ جس بات پر افسوس اور مذمت کیا جانا چاہئے وہ یہی ہے کہ اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کیپٹن شفیع صاحب نے بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی مذمت کی لیکن معلوم نہیں کس زمرے میں ۔ یہ انتہادرجے کی گھٹیا معاشرتی سوچ ہے جہاں پر بدکاری جیسے بدترین افعال کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

قانون ساز اسمبلی کا 35 واں اجلاس کا پہلا روز اپنی نوعیت کے مطابق انوکھا اجلاس تھا۔ جس میں بغیر ایجنڈے کے اسمبلی اجلاس شروع کیا گیا ۔ 22اراکین پر مشتمل حکومتی بنچ سے صرف 7ممبرحاضر تھے، اسمبلی اجلاس دو مہینے کے بعد طلب کرلیا گیا تھا، اسمبلی اجلاس میں بھی دیدار واقعے پر بحث ہوئی ۔ 14 اراکین میں سے صرف غذر کے ممبران اسمبلی تھے جو دیدار حسین کی تعزیت کے لئے لواحقین کے پاس گئے تھے ۔

مذمت کرنے کے لئے سارے کھڑے ضرور تھے مگر نہ کسی کو وہاں جانے کی توفیق ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کو اس کیس کے بارے میں معلومات تھیں،صوبائی وزیر قانون اورنگزیب نے کچھ حد تک معلومات فراہم کی لیکن بعد میں کہا کہ میں کل ہی اسلام آباد سے آیا ہوں ایک دن مہلت دی جائے تمام معلومات لیکر آؤں گا۔ اراکین اسمبلی کی معلومات کے لئے پیش خدمت ہے کہ دیدار حسین واقعہ میں 10 ملزمان کی نشاندہی ہوچکی ہے جن میں سے آخری مرکزی ملزم بروز پیر گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ان تمام ملزمان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ لگایا گیا ہے ، انسداد دہشتگردی عدالت نے 10روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے ۔ 23فروری کو تمام تفتیش مکمل کرکے دوبارہ پیش کئے جائیں گے۔

دونوں طرف کے مقررین کی زاتی رائے تھی، بس معاملے کو مذہبی رنگ دیدیا گیا، یہاں تک کہ اتحاد بین المسلمین کے ایک نام نہاد داعی نے اس واقعہ کو وزیراعلیٰ جی بی سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ حفیظ الرحمن کو احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مسلک کا مولوی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ ہے۔ دیدار حسین کے قتل کے بعد اگر سب سے زیادہ جس بات پر افسوس اور مذمت کیا جانا چاہئے وہ یہی ہے کہ اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کیپٹن شفیع صاحب نے بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی مذمت کی لیکن معلوم نہیں کس زمرے میں ۔ یہ انتہادرجے کی گھٹیا معاشرتی سوچ ہے جہاں پر بدکاری جیسے بدترین افعال کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

قانون ساز اسمبلی کا 35 واں اجلاس کا پہلا روز اپنی نوعیت کے مطابق انوکھا اجلاس تھا۔ جس میں بغیر ایجنڈے کے اسمبلی اجلاس شروع کیا گیا ۔ 22اراکین پر مشتمل حکومتی بنچ سے صرف 7ممبرحاضر تھے، اسمبلی اجلاس دو مہینے کے بعد طلب کرلیا گیا تھا، اسمبلی اجلاس میں بھی دیدار واقعے پر بحث ہوئی ۔ 14 اراکین میں سے صرف غذر کے ممبران اسمبلی تھے جو دیدار حسین کی تعزیت کے لئے لواحقین کے پاس گئے تھے ۔ مذمت کرنے کے لئے سارے کھڑے ضرور تھے مگر نہ کسی کو وہاں جانے کی توفیق ہوئی تھی اور نہ ہی کسی کو اس کیس کے بارے میں معلومات تھیں.

صوبائی وزیر قانون اورنگزیب نے کچھ حد تک معلومات فراہم کی لیکن بعد میں کہا کہ میں کل ہی اسلام آباد سے آیا ہوں ایک دن مہلت دی جائے تمام معلومات لیکر آؤں گا۔ اراکین اسمبلی کی معلومات کے لئے پیش خدمت ہے کہ دیدار حسین واقعہ میں 10 ملزمان کی نشاندہی ہوچکی ہے جن میں سے آخری مرکزی ملزم بروز پیر گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ان تمام ملزمان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ لگایا گیا ہے ، انسداد دہشتگردی عدالت نے 10روزہ جسمانی ریمانڈ دیا ہے ۔ 23فروری کو تمام تفتیش مکمل کرکے دوبارہ پیش کئے جائیں گے۔

فہیم اختر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے میڈیا کمیونیکیشز میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد روزنامہ کے ٹو اور روزنامہ سماؐ اسلام آباد سے منسلک ہیں۔ ساتھ ہی وہ پاکستان فیڈرل کونسل برائے کالمسٹ جی بی کے صدر بھی ہیں۔

Advertisement
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

کالم

ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان کی سر زمین ہنزہ میں پہلی بار آمد کی سالگرہ

سیما کرن

Published

on

ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان کے سر زمین ہنزہ پہلی بار آمد کی سالگرہ منایا جا رہا ہے۔ 1960 سے پہلے پوری دنیا کے بیشتر ممالک سمیت ارض شمال میں غربت کی انتہا تھی۔ 1957 میں پرنس کریم آغا خان کے تخت نشینی کے بعد وسط ایشیا میں اداروں کا جال بچھانا شروع کیا۔ ان میں تعلیم اور صحت کو اولین ترجیح دی گئی۔

وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں کو وسعت دی گئی۔ اس سلسلے میں آغا خان فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا گیا جن کے ذیلی ادارواں میں تمام شعبہ ہائے زندگی میں ترقی کے لئے دن رات کام کیا گیا۔ جدید خطوط پر زرعی اجناس اور لائیو اسٹاک کی نئی نسل پر تحقیق کر کے موسم سے مطابقت رکھنے والے اقسام متعارف کرایا گیا جس سے پیداوار اور ان سے ہونے والی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ زراعت کی طرف حالات کی مناسبت رجحان کم ہوا۔

فرسٹ مائیکرو فنانس بنک کا قیام ہز ہائینس پرنس کریم آغا خان کی دور اندیش معاشی حکمت عملی کے مرہون منت ہے جس نے نچلی سطح پر گھریلو صنعتوں کی جانب راغب کیا اور قرضوں کا اجراء کیا۔ اس طرح علاقے کی مجموعی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور لوگوں کا معیار زندگی میں بہتری آنے لگی۔ لوگوں میں اجتماعی سوچ کے ساتھ نئی ترقیاتی حکمت عملی کے تحت ہر گاوں کے سطح پر تنظیمات بنائے گئے جہاں ہر فیصلہ اجتماعی ہوتا تھا۔

لوگوں کو اس بات کے لئے معاشی ماہرین نے کاروبار کے طریقوں وسائل اور تکنیکی مدد فراہم کی۔ ارض شمال میں بسنے والی آبادی نہایت کٹھن موسمی اور جغرافیائی حالات کا سامنا کرتی ہے مگر یہاں کے عوام کا معیار زندگی پاکستان کے کسی بھی شہر سے کم نہیں ہے۔ مختلف اداروں کے انتھک محنت کے ثمرات ہیں کہ آج کے دور میں ترقی کی رفتار تسلی بخش ہے۔ امید ہے وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی اور ترقی کا سفر جاری رہےگا۔

Continue Reading

سماجی مسائل

گلگت بلتستان میں خود کشی کے اسباب اور تدارک

سیما کرن

Published

on

Seema Kiran - Gilgit-Baltistan Journalist

گلگت بلتستان کے دل دہلانے والے خود کشی کے پے در پے واقعات نے آج مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ گلگت بلتستان کی دنیا بھر کے لئے اس کی قدرتی حسن جفاکش لوگ اور مہمان نوازی کے لئے بہت مشہور ہے۔ گلگت بلتستان میں پچھلے کچھ دہائیوں سے جس رفتار سے ترقی ہوئی ہے اس کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ان مسائل میں خود کشی سر فہرست ہے جس کا تناسب پچھلے چند سالوں میں بہت بڑھا ہے۔

اس رجحان میں 2009 سے 2019 کے درمیان تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ خود کشی کا رجحان مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ ہے جن کی عمر 14 سے 32 سال ہے۔ ان واقعات نے ہر ذی شعور کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ہر سطح پر ان واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں حال ہی میں BBCکی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ضلع غزر میں ہر سال 20 خواتین خود کشی کر لیتی ہیں۔

مقامی پولیس سٹیشن سے جاری کردہ اعداد و شمار حقائق سے بہت کم ہیں کیونکہ مقامی لوگوں کے بیان کے مطابق ہر مہینہ 3 خواتین اوسطا خودکشی کر لیتی ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو قابل غور اور توجہ طلب ہے۔ ایسے کونسے حالات ہیں جن کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ ان معرکات کو جانچنے کے بعد ادراک کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے مختلف سطح پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

مفکرین کی رائے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومتی سرپرستی درکار ہوگی۔ اس امر کی نشاندہی کرنا ہوگی جس کی وجہ سے بے شمار نوجوانوں کی موت واقع ہوئی ہے اور یہ ایک قومی نقصان ہے۔اسی طرح ایک عام وجہ یہ بھی ہے کہ والدین کی معاشی حالات کمزور ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو ضروریات پوری نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ بچے بد دل ہو جاتے جو کہ خود کشی کا باعث بن جاتا ہے۔ اس طرح کے ان گنت وجوہات ہو سکتے ہیں۔

بحیثیت انسان اور اس معاشرے کا جز ہونے کے ناطے اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس طرح کے واقعات اور انکی وجوہات پہ غور کریں اور جب اپنے پیاروں میں ان عوامل کے آثار دکھائی دیں تو ان پر خصوصی توجہ دینا لازمی ہوتا ہے اور انکو مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے ہمت دینا ہوگا۔ خود کشی بزدل لوگوں کا کام ہے اور خود کشی ہر گز مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس طرف اس بڑھتے رجحان کو ختم کرنے اور گلگت بلتستان کی ا چھی تصویر دنیا کو دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس معاملے کے چند وجوہات اور بھی ہوسکتے ہیں مثلا بچوں کا والدین بہن بھائی دوست یا اساتذہ کے درمیان فاصلہ یعنی بچے اپنی بات کھل کر کسی کو نہیں بتاتے اور جن کے مشکلات اور مسائل کا حل نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ یوسکتی کہ والدین نے اپنے بچوں کو ناکامی سے خوف زدہ کر کے رکھا ہے .. ہم بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ فیل ہونا بری بات نہیں بلکہ ہمت ہارنے میں ناکامی ہے .. کیونکہ اکثر ایسے واقعات سننے کو ملے ہیں کہ چند بچوں نے میٹرک کا نتیجہ بُرا آنے کی وجہ سے خود کشی کیا۔

عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ جسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور افسردہ ہوجاتے ہیں۔ جیسے جیسے معاشرہ جدیدیت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ والدین بچوں کی ہر خواہش اور ضد پوری کرتے ہیں جس سے بچے خیالی دنیا میں دنیا میں رہنے لگتے ہیں مگر جب حقیقی دنیا سے انکا سامنا ہوتا ہے تو ان میں تلخی سہنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

Continue Reading

سیاحت

ہنزہ بھی حکومت کا منتظر ہے

جاوید چودھری

Published

on

Hunza Baltit Fort Karimabad

ہنزہ کی زیادہ تر آبادی اسماعیلی ہے، پرنس کریم آغا خان ان کے روحانی پیشوا ہیں لہٰذا یہاں آغا خان فاؤنڈیشن نے بے شمار ترقیاتی کام کیے،فاؤنڈیشن نے 35 برس قبل علاقے کی خواتین کو خودمختار بنانا شروع کیا،دیہات میں ’’کمیٹی سسٹم‘‘ شروع ہوا،خواتین ہر ہفتے پانچ پانچ روپے جمع کرتیں،یہ رقم کسی ایک خاتون کو دے دی جاتی اور وہ اس سے اچار،چٹنیاں اور مربعوں کا کاروبار شروع کر لیتی،یہ کوشش کامیاب ہو گئی۔

کامیاب خواتین کو آغا خان فاؤنڈیشن نے بلاسود قرضے دینا شروع کر دیے،یہ قرض دو شرائط پر دیے جاتے تھے،ایک،مقروض شخص یہ قرضہ قسطوں میں واپس کرے گا،دو،قرضہ ادا ہونے کے بعد یہ شخص منافع کا ایک حصہ اس فنڈ میں جمع کرائے گا جس سے ضرورت مندوں کو قرضے دیے جاتے ہیں، یہ اسکیم بھی کامیاب ہو گئی اور یوں لوگ خوشحال ہو گئے،ہنزہ پاکستان کا واحد علاقہ ہے جہاں کوئی شخص غریب نہیں،علاقے کا ہر خاندان،ہر گھرانہ خوشحال ہے،آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی یہ ملک کا واحد حصہ ہے جس میں کوئی گداگر،کوئی فقیر نہیں‘یہاں آپ کے سامنے کوئی ہاتھ نہیں پھیلاتا۔

علاقے کی بے شمار روایات قابل تقلید ہیں،مثلاً یہ لوگ اپنی کمیونٹی کو روزانہ وقت دیتے ہیں،یہ روایت ’’نذرانہ‘‘کہلاتی ہے،نذرانہ وقت اور علم کا ’’کمبی نیشن‘‘ہے،کامیاب لوگ روز چند منٹ نکال کر دوسروں کو اپنے علم،اپنے ہنر اور اپنے تجربات سے مستفید کرتے ہیں،یہ لوگ اپنے بچوں کو روزانہ جماعت خانہ بھی بھجواتے ہیں،جماعت خانے میں بچوں کو ہاتھ دھونے،کنگھی کرنے،دوسروں کو دیکھ کر مسکرانے،بات کرنے اور کام کی اخلاقیات سکھائی جاتی ہیں،یہ لوگ تعلیم کو بہت فوقیت دیتے ہیں،فاؤنڈیشن نے پورے علاقے میں شاندار اسکول بنا رکھے ہیں،یہ تمام اسکول ’’انگلش میڈیم‘‘ہیں،بچوں کو بینچوں پر بٹھا کر عزت کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔

فاؤنڈیشن اساتذہ کو باقاعدہ ٹریننگ دیتی ہے،استاد سال سال ٹریننگ لیتے ہیں،بچیوں کی تعلیم لازمی ہے،کوئی اسماعیلی اپنی بچی کو تعلیم نہ دے یہ ممکن ہی نہیں،ہنزہ کی تمام بچیاں تعلیم یافتہ ہیں،یہ ہنر مند بھی ہیں اور ان کی انگریزی کا لیول بھی بہت اونچا ہے،میں نے جتنا اعتماد اور بے خوفی ہنزہ کی خواتین میں دیکھی اتنی ملک کے کسی دوسرے حصے میں نظر نہیں آئی،ہنزہ کی خواتین دن ہو یا رات بے خوفی سے پھرتی ہیں،میں نے کسی عورت کے چہرے پر بے اعتمادی،احساس کمتری یا خوف نہیں دیکھا،یہ مشاہدہ حیران کن تھا،ہنزہ میں شرح خواندگی 97 فیصد ہے۔

بچے ایف اے،ایف ایس سی کے بعد فاؤنڈیشن کے اسکالر شپ پر تعلیم کے لیے بڑے شہروں میں جاتے ہیں،ان میں سے بے شمار نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک سے باہر بھی جاتے ہیں لیکن یہ ڈگری کے بعد اپنے ملک میں واپس ضرور آتے ہیں،یہ گلگت کی قراقرم یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں یا پھر پانچ دس سال اپنی کمیونٹی کے لیے کام کرتے ہیں،ہنزہ کے نوجوان بہت محنتی اور اسمارٹ ہیں،یہ لوگ لباس پہننے اور لوگوں سے میل ملاقات کے ایکسپرٹ ہیں،یہ آپ کو دیکھ کر مسکرائیں گے،آپ کو بلاوجہ ڈسٹرب نہیں کریں گے،آپ ان سے ایڈریس پوچھیں گے تو یہ آپ کی باقاعدہ رہنمائی کریں گے،یہ وعدہ بھی پورا کریں گے،آپ نے ڈرائیور کو آٹھ بجے کا وقت دیا ہے تو یہ ٹھیک آٹھ بجے آپ کے دروازے پر ہو گا۔

ہنزہ کے لوگ اسسٹنٹ کمشنر کیپٹن سمیع کی بہت تعریف کر رہے تھے،پتہ چلا،یہ لوگوں کو اپنے دفتر نہیں بلاتے بلکہ خود ان کے پاس چلے جاتے ہیں،انھوں نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر ہوٹلوں،ریستورانوں اور ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی طے کر دیے ہیں،یہ کرائے نامے تمام ہوٹلوں اور ریستورانوں میں آویزاں ہیں،ٹرانسپورٹ کے ریٹس بھی گاڑیوں اور جیپوں کی اسکرینوں پر چپکا دیے گئے ہیں،مالکان اس دستاویز کا احترام کرتے ہیں،یہ اضافی کرایہ وصول نہیں کرتے،ہنزہ صرف شہر نہیں ،یہ ایک لت ہے،ہنزہ کے لوگ بڑے شہروں اور دنیا کے دوسرے ممالک میں گھر بناتے اور کاروبار کرتے ہیں لیکن یہ اپنا آبائی گاؤں اور گھر نہیں چھوڑتے۔

یہ سال میں چند دن ہنزہ میں ضرور گزارتے ہیں،مجھے یہاں فرحت اللہ بیگ بھی ملے،یہ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں لیکن یہ ہنزہ میں ایمبیسی ہوٹل کے نام سے ہوٹلوں اور ریستورانوں کی ’’چین‘‘ چلا رہے ہیں،کریم آباد میں ان کا بہت خوبصورت ہوٹل ہے،مجھے اس ہوٹل کے ٹیرس پر کھانا کھانے کا موقع ملا،وہ کمال جگہ اور کمال وقت تھا،بیگ صاحب بہت اچھے انسان ہیں،یہ تمام خوبیاں اپنی جگہ لیکن ہنزہ چند مسائل کا شکار بھی ہے،یہ تمام مسائل حکومت کی تھوڑی سی توجہ سے حل ہو سکتے ہیں مثلاً ہنزہ بجلی کے شدید بحران میں مبتلا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اسے پانی کی بہت بڑی نعمت سے نواز رکھا ہے مگر اس کے باوجود یہاں بجلی نہیں،پورا شہر جنریٹرز پر چل رہا ہے،آپ کسی طرف نکل جائیں آپ جنریٹر کا شور سنیں گے ’’ایگل نیسٹ‘‘میں بھی 24 گھنٹے جنریٹر کی ’’ٹھک ٹھک اور ٹھررٹھرر‘‘کی آوازیں آتی رہتی تھیں،یہ آوازیں سیاحوں کی جمالیاتی حسوں کو زخمی کرتی رہتی ہیں،حکومت اگر معمولی سی توجہ دے دے،یہ ہنزہ کے لیے بجلی کا الگ بندوبست کر دے،یہ ہنزہ کے پانیوں سے ہنزہ کے لوگوں کے لیے بجلی بنانا شروع کر دے تو لوگ بھی دعائیں دیں گے اور سیاح بھی سکھ کا سانس لیں گے،ہنزہ کے دیہات میں سڑکوں کی حالت بھی اچھی نہیں۔

’’ایگل نیسٹ‘‘ہنزہ کے لیے ’’ایفل ٹاور‘‘کی حیثیت رکھتا ہے،ہنزہ آنے والا ہر شخص ایگل نیسٹ ضرور جاتا ہے لیکن اس کی سڑک کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے،چڑھائی زیادہ ہے،سڑک چھوٹی ہے،موڑ خطرناک ہیں،حکومت چند کروڑ روپے خرچ کر کے سڑک کھلی کر سکتی ہے،سڑک کی مرمت کے لیے بھی سالانہ بجٹ مختص ہونا چاہیے،حکومت خواہ ٹول ٹیکس طے کر دے لیکن سڑک کی مرمت اور وسعت دونوں ضروری ہیں،سست اور خنجراب روڈ پر واش رومز،چائے خانے اور کچرے کی صفائی کا بندوبست نہیں ،حکومت اس پر بھی توجہ دے،آپ یہ ذمے داری بارڈر سیکیورٹی فورس کو بھی سونپ سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان کبھی غیر ملکی سیاحوں کا سیاحتی ’’ویٹی کن‘‘ہوتا تھا،گلگت میں مقامی لوگ کم اور غیر ملکی زیادہ نظر آتے تھے،نائین الیون کے بعد غیر ملکی سیاح غائب ہوگئے ہیں،اگر اب کوئی مقدر کا مارا انگریز ادھر آ نکلتا ہے تو ہمارے خفیہ ادارے اس کی مت مار دیتے ہیں،اسے جگہ جگہ روکا اور ذلیل کیا جاتا ہے چنانچہ وہ بھی واپس چلا جاتا ہے،حکومت کو اس معاملے میں بھی کوئی واضح پالیسی بنانی چاہیے،آپ سیاح سے تمام معلومات اسلام آباد میں لے لیں اور پھر اسے کوئی شخص تنگ نہ کرے،گلگت کے لیے فلائیٹس کم ہیں،یہ فلائیٹس بھی سیاحتی دنوں میں بڑھا دی جائیں۔

پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی چھوٹے جہاز چلانے کی اجازت دے دی جائے،ملک میں پچھلے چند برسوں میں سیاحت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا،اس کی تین وجوہات ہیں،ملک میں دہشت گردی میں کمی آئی،لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہوئی اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو سیروسیاحت کی ترغیب دی،لوگ فیس بک کا ’’اسٹیٹس‘‘دیکھ کر بھی شمالی علاقہ جات کی طرف نکل رہے ہیں،یہ رش عید کے دنوں میں اژدہام بن جاتا ہے،سڑکیں بند ہو جاتی ہیں،ہوٹلوں میں کمرے نہیں ملتے اور خوراک کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔

حکومت کو اس ’’ٹرینڈ‘‘پر بھی نظر رکھنی چاہیے،یہ ملک میں ’’سیاحتی اتھارٹی‘‘بنائے،یہ اتھارٹی سیاحتی زون قائم کرے،یہ ہوٹل ڈیزائن کرے،انفرااسٹرکچر پر رقم خرچ کرے،ہوٹلوں،ریستورانوں اور ٹرانسپورٹ کے لیے قرضے دے اور سیاحتی ویب سائیٹس بنوائے،یہ اقدامات سیاحت،انڈسٹری اور ملک کے امیج تینوں کے لیے بہتر ہوں گے،آپ فرض کیجیے ہنزہ میں 40 ہوٹل ہیں،ٹوٹل کمرے 400 ہیں اور فرض کر لیجیے ان کمروں میں کل ہزار بیڈز ہیں،حکومت ہنزہ کی ویب سائیٹ بنائے اور یہ بیڈز،یہ کمرے اور یہ ہوٹل ویب سائیٹ پر چڑھا دے۔

ٹرانسپورٹ بھی ویب سائیٹ پر دے دی جائے اور سڑکوں اور موسم کی صورتحال بھی،سیاح تمام بکنگز ویب سائیٹ پر کریں،اس سے سیاح،خاندان اور ہوٹل انتظامیہ بھی پریشانی سے بچ جائے گی اور حکومت بھی لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے گی،یہ پریکٹس دنیا کے بے شمار ممالک میں ہو رہی ہے،ہم کیوں نہیں کرتے؟ ہم شاید ملک میں کوئی اچھا کام کرنا ہی نہیں چاہتے بلکہ نہیں ٹھہریئے !ہم شاید سرے سے کام ہی نہیں کرنا چاہتے چنانچہ اسلام آباد ہو یا ہنزہ پورا ملک حکومت کا منتظر ہے،ہم سب انتظار کر رہے ہیں۔

Continue Reading

مقبول تریں