Connect with us

بلاگ

اے میرے معمارو!

نوشاد شیراز نوشی

Published

on

Noshad Sheraz - Gilgit-Baltistan writer

بےباک بہت سرشار بہت پاک آرمی کے دلدار بہت
امداد طلب اُن شیروں کا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
آزادی گلگت اور کارگل پینسٹھ،اکہتر کی جنگوں کے
شہداء کے لہوکو رکھ زندہ اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
جو میرے جیالے راضی ہیں وانا سرحد کے غازی ہیں
اک راہِ وفا تم دِکھلانا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
لو پیاری نصیحت آج بھی ہے دھرتی میں بقاء کی آس بھی ہے
تو رکھوالا اس سرحد کا اب تم ہی کرو کچھ معما رو!
احساس بہت ہیں راز بہت اس دھرتی میں جذبات بہت
اس ممتا کا توہے تارا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
ِِاِک اِک ٹکڑا میری دھرتی کا ِبک نہ پائےنادانی میں
تو غیر ت کا ہے متوالا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
کردار نہیں پہچان نہیں اس دھرتی میں میرا نام نہیں
متنازعہ کے مسئلے سُلجھانا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
نئ آرڈیننس کا ہلچل ہے جی بی میں سیاست دلدل ہے
آواز کرواب تو بھی بلند اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
سیاست میں عجب سا لاج بھی ہے دھرتی پہ اُنہیں کا راج بھی ہے
ملت کا نہیں ان کو پرواہ اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
منکر ہے وہ جو بہکائے تمہیں آزادیِ حق کی را ہوں سے
ظالم کا ٹھکانہ تو ہی مٹا اب تم کرو کچھ معمارو!
اقوام متحدہ کی راہیں اب ِدکھلائیں کسی ساقی نے
اس ساقی کو تو راہی بنا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
اُسے تیرے لہو کی کیا پرواہ جو روز مرے ہیں راہوں میں
ورثہ کو انصاف تو ہی دلا اب تم ہی کرو کچھ معمارو !
تعلیم بھی ہے تعظیم بھی ہے ننگا پربت اور جھیل بھی ہیں
جنّت میں نظارہ صدیوں کا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
اب سیروسیاحت کے جلوے دنیا کو دکھاۓ عالَم نے
سمجھوتہ نہ کرنا حرمت کا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
گل پوش وطن کی راہوں میں کچھ چُور ہوۓ ہیں آئینے
عزت کا جنازہ تو نہ دکھا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
مائیں بہنیں اور پسر بھی سب بچے والد دختربھی
دو درس وفا ایثاری کااب تم ہی کرو کچھ معمارو!
استاد یہاں لاچار سے ہیں کچھ عالمی ڈگری پاس بھی ہیں
تنخواہ نہ مقام استادوں کا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
شعراء بھی تو اب بیتاب سے ہیں کچھ دانشور کچھ خاص بھی ہیں
تو اہل قلم بن ہمت کا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
پرائیویٹ سیکٹر میں مسئلے ہیں اور گورنمنٹ میں بھی گھپلے ہیں
احتساب کی راہیں تُو دکھلانا اب تم ہی کرو کچھ معمارو !
کبھی بجلی نہیں کبھی پانی نہیں اِن جیبوں میں ایک پائی نہیں
حکومت سے گلہ اِس بندش کا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
اندھیری نگری میں ناگِن ڈستی ہی چلی میری یادوں کو
لو ماضی کو قربان کیا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
میں نالۂ دُختر آج بھی ہوں ظلمت میں دلوں کا ساز بھی ہوں
گر میں نہ راہوں کل تابندہ اب تم ہی کرو کچھ معمارو!
نوشی کےنرالے خواب بھی ہیں کچھ گو ہر کچھ نایاب بھی ہیں
پہچان کی راہ میں کیوں تنہا اب تم ہی کرو کچھ معمارو!

نوشاد شیراز نوشی کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع گلگت سے ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم ایس سی کرنے کے بعد پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرتی ہیں۔ وہ ادب و شاعری کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر بھی لکھتی ہیں۔

Advertisement
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

بلاگ

ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ کے تجربہ کار ڈاکٹر

الطاف یش

Published

on

آغا خان ہیلتھ سنٹر

دو ہفتے پہلے میرے موبائل نمبر پہ کال آئی کال اٹھایا تو بتایا گیا کہ گاہکوچ دارلعلوم للبنات میں میری چھوٹی کزن جو 2 سال سے زیر تعلیم ہے وہ بیمار ہیں، آ کے کے گھر لے جائیں۔ جب اسے گھر لایا گیا اور ساتھ دوسری کزن سے میں نے پوچھا تو بتایا کہ آج تین دنوں سے بیمار ہیں۔

مدرسے سے ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ لے جا رہے اور صبح شام درد آرام کا انجکشن لگا کر واپس بیجتے ہیں اور وہاں ڈیوٹی میں موجود ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اسے "Appendix” ہے۔

یہ سن کر حیرت سی ہوئی کہ تین دن ہوگئے اگر ایسی کوئی بات ہے تو انجکشن سے ڈاکٹر کیوں ٹال رہے ہیں اگر آپریشن میں دیر ہوئی تو کافی مسلہ ہوسکتا ہے اگر گاہکوچ میں آپریشن کی سہولت موجود نہیں تو گلگت ریفر کیوں نہیں کر رہے؟ اور گاہکوچ سے 25-30 کلومیٹر کے فاصلے پہ سنگل میں آغا خان ہیلتھ سنٹر ہے جس میں پورے غذر کے تمام ایمرجنسی کیسیز لے جاتے ہیں۔

خیر بات مختصر کرتا ہوں شام کا وقت تھا گاؤں گونرفارم (گوہرآباد) اسی کزن کے والد کو کال کیا تو بچارا یہ خبر سن کر کچھ ہی دیر میں وہاں سے گاڑی لے کر روانہ ہوا اور رات 2 بجے گاہکوچ پہنچا اور بیمار بیٹی کو لے کر سیدھے واپسی کی پوری رات سفر کے بعد صبح 7 بجے گاوں پہنچے اور وہاں سے ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس لے گئے اور چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کے لئے دیا اور 12 بجے کے بعد پتا چلا کہ کوئی "Appendix ” یا اس قسم کی کوئی بیماری نہیں بلکہ کوئی نارمل سی بیماری ہے اور ایک ہفتے کی دوائی دی اور اب الحمداللہ ٹھیک ہے۔

کیا گاہکوچ میں اتنے کم تجربہ کار ڈاکٹر ہیں؟

کیا "Appendix ” کے مریض کو انجکشن لگا کے ٹالنا ٹھیک ہے؟

خدانخواستہ اگر کچھ ہوجاتا تو ذمہ دار کون تھا؟

Continue Reading

بلاگ

دیامر میں ذاتی دشمنی اور علماء کا کردار

الطاف یش

Published

on

Altaaf Yash - Writer Gilgit-Baltistan

کہتے ہیں کسی زمانے میں کوئی انگریز دیامر کے کسی علاقے میں آیا تو وہاں اس نے دیکھا چھوٹے بڑے سب کے ہاتھ میں اسلہ ہے تب اس کے پوچھنے پہ مقامی لوگوں نے بتایا یہاں پہ رواج ایسا ہے اور لوگ ذاتی دشمنی کی وجہ سے اسلہ رکھتے ہیں اور باری باری ایک دوسروں کو مارتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہتا ہے تو انگریز نے پوچھا پھر؟ تو بتایا گیا آخر میں دونوں خاندان دونوں قبیلے صلح کرتے ہیں اور دشمنی کو ختم کرتے ہیں تو اس انگریز نے بتایا یہ صلح آخر میں کرنے کے بجائے پہلے ہی کیوں نہیں کرتے اتنی قیمتی جانیں ضائع کرکے اور مالی نقصان کے بعد کیوں؟؟؟

اگر سوچا جائے تو انگریز کی اس بات میں بہت دم ہے دیامر والو!!! کب تک چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ایک دوسروں کو قتل کرو گے ایک طرف تو سو روپے کی کلاشنکوف کی اک گولی جاتی ہے لیکن دوسری طرف اک انسان کی قیمتی جان جاتی ہے کسی گھر سے جنازہ اٹھتا ہے پھر اپنی باری کا انتظار کرو تو آپ کے گھر میں بھی ایسا ماتم ہوسکتا ہے آخر یہ کب تک چلے گا؟

دیامر میں پیسے زیادہ ہونے کی وجہ سے سب کچھ بدل دیا لیکن ہم خد کو کب بدل دیں گے؟ جی بی کا سب سے پسماندہ علاقہ دیامر ہے اور ہم حکومت کو گلے شکوے کرتے ہیں ہمارے ساتھ ناانصافی اور سوتیلا برتاؤ کا رونا روتے ہیں جبکہ غلطی اپنی ہوتی ہے ہم اپنے بچوں کو تعلیم کی طرف لا کے ہاتھ میں قلم تھما دیں تب دیامر کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

ان ذاتی دشمنیوں کو ختم کرنے میں دیامر کے علماءکونسل کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور دیامر کے عوام کو بھی صبر و تحمل سے کام لینا چاہئیے اور آپس میں اتفاق اتحاد محبت اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور علماءکو بھی چاہئے کہ وہ اپنے بیان تقاریر اور خطبوں میں اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کریں اور ہر شخص دیامر کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Continue Reading

بلاگ

یوم دفاع پاکستان

نوشاد شیراز نوشی

Published

on

Noshad Sheraz - Gilgit-Baltistan writer

ہے تجھ کو نبھانا اب وہ رسمِ وفا راہی
دھرتی کی محبت میں پہچان بنا راہی

میں ایک سپاہی ہوں دھرتی میری جنت ہے
غازی بنوں یا شہداء میں نام بقاء راہی

صدیوں سے جوانمردی قوموں میں صفِ اوّل
لمحوں میں فنا کر دے دشمن کی انّا راہی

سرحد کے محافظ ہو ملت کا ہو یا تارا
دے دینا تو نذرانہ سو جان یہاں راہی

دھرتی میں لہو دے کے مٹی سے محبت کا
وہ راہ شریعت اب ہو تیری ادا راہی

شہداء ہیں سدا زندہ غازی بھی ہیں متوالے
مسلم جو مجاہد ہیں حقدار دعا راہی

مغرب میں امید ِ نو اسلام کے چرچے اب
توحید کے جلوے یوں اذان صدا راہی

میں دختر شیدائی دھرتی کی محبت میں
نوشی کو عنایت کر شہداء کی ثناء راہی

Continue Reading

مقبول تریں