Connect with us

خبریں

“ہنزہ میں بجلی کے بحران کاذمہ دار پیپلز پارٹی ہے” وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن

اسلم شاہ

Published

on

گلگت (جی بی اردو) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ ہنزہ میں بجلی کے بحران کاذمہ دار پیپلز پارٹی ہے، حسن آباد اور مایون پاور ہاؤس کے ٹی جی سیٹ پر ایک سال سے عدالتوں کے ذریعے حکم امتناعی لے رکھے ہیں جس میں پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت ملوث ہے جس کی وجہ سے ان پاور ہاؤسز پر کام رکا ہوا ہے ہم نے ہنزہ کے حوالے سے جو بھی اعلانات کئے ہیں ان سبپر عمل درآمد ہوگا جلد ہنزہکا دورہ کرکے گوجال سب ڈویژن اور شیناکی تحصیل کا افتتاح کرونگا.

اس کے علاوہ ہنزہ میں بجلی کے بحران کے سلسلے میں کام کیا جا رہا ہے ، مسگر پاور ہاؤس پر ہم خصوصی توجہ دے رہے ہیں بہت جلد مسگر پاور ہاؤس سے بجلی فراہم کی جائیگی اس سال گرمیوں میں ہنزہ کے اندر خاطر خواہ لوڈ شیڈنگ میں کمی آئیگی اس وقت ہنزہ میں تھرمل جنریٹرز کے ذریعے ہنزہ کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس پر کروڑوں روپے لاگت آرہی ہے ،عطا آباد پاور ہاؤس پر چار میگاواٹ کیلئے 25کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کیلئے مزید پچاس کروڑ روپے درکار ہیں ہم کوشش کررہے ہیں کہ جلد ہم پچاس کروڑ روپے بھی لا سکیں.

اس منصوبے پر 75کروڑ روپے لاگت آرہی ہے عطاء آباد 32.5 میگاواٹ کیلئے بھی ہم وفاقی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں کیونکہ یہ پی ایس ڈی پی کے فنڈ سے بنناہے جس کی منظوری مل چکی ہے اب اس کیلئے فنڈ مہیا کرنا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے ہنزہ پریس کلب کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہنزہ کی تعمیر و ترقی ہماری اولین ذمہ داری ہے کیونکہ ہنزہ ہمارا چہرہ ہے.

ہنزہ پریس کلب کی جانب سے علی احمد نے وزیر اعلیٰ کو ہنزہ کے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا جس میں کے کے ایچ کمپنسیشن ، سکیل1 تا9 بین الاضلاعی تقرریاں ، بجلی کے بحران اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا جبکہ ہنزہ پریس کلب کے صدر رحیم اللہ بیگ نے ہنزہ پریس کلب کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا وفد میں سینئر نائب صدر اکرام نجمی اور جوائنٹ سیکریٹری اسلم شاہ شامل تھے اور اس ملاقات میں رکن گلگت بلتستان کونسل ارمان شاہ نے خصوصی طور پر شرکت کی اور ہنزہ کے مسائل اور ہنزہ میں صحافیوں کو درپیش مسائلسے وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا

اسلم شاہ کا تعلق ضلع ہنزہ سے ہے اور وہ ہنزہ پریس کلب کے رکن اور ماہنامہ کنجوت ٹوڈے میگزین کے ایڈیٹر بھی ہیں

Advertisement
1 Comment

خبریں

ہنزہ علی آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو تمباکو سموک فری قرار دے گیا

اسلم شاہ

Published

on

ہنزہ علی آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو تمباکو سموک فری قرار دے گیا

ہنزہ (اسلم شاہ) تمباکو سموک فری ہنزہ مہم کے تحت ڈاکٹر ممتاز احمد ڈپٹی ہیلتھ آفیسر ہنزہ عزیز کریم اور سی او سیڈو گلگت بلتستان نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی آباد ہنزہ کو تمباکو سموک فری قرار دے کر افتتاح کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر ممتاز احمد ڈپٹی ہیلتھ آفیسر ضلع ہنزہ نے کہا کہ سیڈو گلگت بلتستان لوگوں کو صحت کے لیے یہ ایک اہم ٓگاہی مہم اور آج کا یہ پروگرام بھی لوگوں کو آگاہی دینے کی ایک کڑی ہے گلگت بلتستان ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور ڈبلیو ایچ او کی جانب سے بھی ہمیں احکامات موصول ہوئی ہیں کہ کورونا کی موجودہ صورتحال میں تمباکو نوشی خود کشی کے مترادف ہے ایسے پروگراموں سے محکمہ صحت کی معاونت ہوتی ہے۔آج سیڈو گلگت بلتستان کے تعاون سے اس تمباکو نوشی کے خلاف ہمارے پیغام کو بھی موثر انداز میں لوگوں تک پہنچتے گا۔یہ ایک ایسا مہم ہے جسے ڈبلیو ایچ او، حکومت پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان بھی کی حمایت حاصل ہے اور اب ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی آنے والی نسل کو منشیات سے پاک رکھنے کے لیے اس مہم کا بھرپور ساتھ دیں اور حکومت کی واضح کردہ اصولوں کے مطابق عمل کریں۔

ہنزہ علی آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو تمباکو سموک فری قرار دے گیا

اس موقع پر سی او سیڈو گلگت بلتستان عزیز احمد نے کہا کہ سائنسی تحیقیق کے مطابق کورونا کی موجودہ وبا میں تمباکو نوشی کے عادی افراد خاص کو سگریٹ نوشی میں مبتلا لوگ جن کے پھپھڑے کمزور ہوئے ہیں ایسے افراد پر کورونا وائرس زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ سیڈو اور گلگت بلتستان نے آج ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی آباد کو تمباکو سے پاک علاقے کی باقاعدہ افتتاح کرکے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ہنزہ کے نوجوان نسل تمباکو نوشی جیسے لعنت سے دور رہے اور ہنزہ میں کم عمر نوجوانوں کو کورونا جیسے مہلک وبا میں تمباکو نوشی کے باعث بڑھتے ہوئے نقصانات سے بچا سکیں۔ جیسا کہ ڈبلیو ایچ او اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ تمباکونوشی خاص کرسگریٹ کے دھواں کے ساتھ کورونا وائرس کے پھیلاو کے خطرات میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے اور خود سگریٹ کا عادی شخص ان حالات میں مشکلا ت کا شکار ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیڈو گلگت بلتستان کی اور حکومت گلگت بلتستان کی کوششوں سے گلگت بلتستان اسمبلی میں تمباکو نوشی سے متعلق ایکٹ پاس ہوا ہے جس کے بعد گلگت بلتستان میں کم عمر بچوں کو سگریٹ نوشی سے دور رکھنے میں یہ ایکٹ اہم سنگ میل ہے۔

ہنزہ علی آباد کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو تمباکو سموک فری قرار دے گیا

اس موقع پر رحیم اللہ بیگ ہنزہ پریس کلب کے صدر نے کہا کہ سیڈو گلگت بلتستان اور سی او سیڈو کی بھرپور کوششوں سے ہنزہ سمیت گلگت بلتستا ن میں اس وباء کے دوران بھی مختلف فلاحی کام اور بچوں کو تمباکو نوشی جیسے لعنت سے دور رکھنے کے لیے کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ہنزہ کے نوجوانوں کو تمباکو نوشی جیسے لعنت سے دور رکھنے کے کی جانے والی کوششوں پر ہنزہ پریس کلب کی جانب سے سیڈو کا شکریہ ادا کرتے ہیں،سیڈو کی ان کوششوں کے باعث آج کل تمباکو نوشی کے خلاف موجود قوانین پرعمل درآمد ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔
اس موقع پر علی آباد ڈسٹرکٹ ہسپتال میں باقاعدہ طور پر بورڈ نصب کرکے پورے ہسپتال کو تمباکو نوشی کے ممنوع قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت کے تمام ذیلی اداروں کے اطراف میں پچاس میٹر تک کسی بھی قسم کی تمباکو نوشی اور تمباکو نوشی سے متعلق کاروبار کرنے کی ممانیت کی گئی۔

Continue Reading

خبریں

ضلع ہنزہ کے وادی شمشال کے کرونا وائرس قرنطینہ میں موجود افراد کے مطالبات

رحیم امان

Published

on

ضلع ہنزہ کے وادی شمشال کے کرونا وائرس قرنطینہ

ہنزہ (رحیم امان) ٹی بی ٹیکنیشن بشارت کے پاس چیک اپ کے لیے آنے والے شمشال سے تعلق رکھنے والے دو ٹی بی مریض سمیت بارہ افراد اب تک قرنطینہ میں ہیں جبکہ بشارت ٹی بی ٹیکنیشن کا ریزلٹ منفی آنے کے بعد قرنطینہ میں رکھنا بلاجواز ہے، ضلعی انتظامیہ جلد رپورٹ منگوا کر قرنطینہ سے رہا کریں۔ قرنطینہ میں موجود متاثرین کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق 29 اپریل کو ہنزہ کے دور افتادہ وادی شمشال سے تعلق رکھنے والے دو ٹی بی کے مریض ٹی بی ٹیکنیشن بشارت کے پاس چیک اپ کے لیے آئے جن کے ساتھ دیگر دس افراد بھی شامل تھے۔ جب وہ لوگ شمشال واپس پہنچے تو ٹی بی ٹیکنیشن بشارت حسین کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کی اطلاع موصول ہو گئی جس کے بعد ان بارہ افرا د، کو جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں اور دو ٹی بی کے مریض بھی شامل ہیں، کو یکم اپریل کو شمشال سے واپس لاکر قرنطینہ منتقل کیا گیا اور اسی دن کورونا ٹیسٹ بھی لیاگیا لیکن آج تک ان کا نتیجہ موصول نہیں ہوس ہے جبکہ ان کے ساتھ جن کاٹیسٹ لیا گیا ان سب کا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد انہیں قرنظینہ سنٹر سے چھوڑا گیا ہے۔جس شک کی بنیاد پر انہیں قرنظینہ منقل کیا گیا تھا ٹی بی کنٹرول پروگرام کے ٹیکنیشن کبشارت حسین سے چیک اپ کروانے کے بعد تو خود بشارت حسین کے ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا ہے۔

قرنطینہ میں موجود وادی شمشال کے افراد نے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جس شک کی بنیادانہیں قرنطینہ منتقل کیا گیا تھا اب اس کا نتیجہ منفی آنے کے بعدکوئی جواز نہیں بچتا کہ ہمیں مزید قرنطینہ میں رکھا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ٹیسٹ کے نتائج جلد حاصل کرکے انہیں قرنطینہ سے رہا کیا جائے۔

Continue Reading

خبریں

سیڈو گلگت بلتستان کی جانب سے ہنزہ انسداد تمباکو مہم جاری

رحیم امان

Published

on

Smoking in Hunza

ہنزہ (رحیم امان) سیڈو گلگت بلتستان کی جانب سے ہنزہ انسداد تمباکو مہم جاری، عوام الناس کو تمباکو خاص کر سگریٹ کے دھواں کے ساتھ کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلاو کے خطرے سے آگاہ کرنے کے اور وبا کے دوران تمباکو نوشی کے عادی افراد لاحق خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے پمفلٹ کی تقسیم کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ہنزہ بھر میں حکومت گلگت بلتستان اور غیر سرکاری و فلاحی ادارہ سیڈو کا مشترکہ مہم کے تحت تمباکو نوشی اور تمباکو نوشی کے متعلق قوانین کی عمل درآمد کے لیے دفعہ 144 پہلے سے ہی لاگو ہے جس کے تحت کم عمر بچوں کو سگریٹ بھیجنے،کھلا سگریٹ فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور صحت عامہ کے اداروں کے اطراف میں پچاس میٹر تک تمباکو نوشی سے متعلق اشیاء کی خرید وفروخت پر پابندی عائد ہے۔

کورونا وئرس سے پیدا شدہ صورتحال میں بھی سیڈو گلگت بلتستان کا مہم جاری ہے جس کے تحت ہنزہ میں عوام الناس کو تمباکو نوشی کے نقصانات اور خاص کر ان حالات میں جب کہ کورونا وبا پھیل رہی ہے تمباکو نوشی کے مضر اثرات بڑھ رہے ہیں اس صورتحال حال سے آگاہ کرنے کے لیے مہم جاری ہے عوام الناس کو بروشرز اور پمفلٹ کے ذریعے آگاہی دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں کریم آباد ہنزہ اور حیدر آباد ہنزہ میں عوام الناس کو تمباکونوشی کے مضمرات اور اس سے پھیلتے اور بڑھتے ہوئے کورونا کے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ لوگوں میں بروشرز تقسیم کئے گئے اور آگاہی دی گئی۔ اس موقع پر سگریٹ کے کے دھواں کے ساتھ تیزی کوروناوائرس کی پھیلاو کے بڑھتے خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو کورونا وائرس کی پھیلاو سے بچانے کے لیے عملی طور پر ہاتھوں کو سنیٹائز کروا کر کورونا کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرنے پر زور بھی دیا گیا۔

Continue Reading

مقبول تریں