Connect with us

بلاگ

میرے موسمی پرندے

نوشاد شیراز نوشی

Published

on

Noshad Sheraz - Gilgit-Baltistan writer

نومبر سے دسمبر اور اگلے چار ماہ بھی۔۔۔۔۔۔۔
کرایوں میں گزار یں گے میرے سرکار یو ں ہی

یہ سر دی تو نہیں بس ایک نعمت ہے بہانہ ہے
اسی امید پر ہی ہم نے جیون کو بِتانا ہے

کہ کب آئے دسمبر پھر چلیں ہم شہر دیدن کو
کراچی ہو کہ پنڈ ی یا لاہور پنڈ دادن کو

کو ئ بیمار بن کے جا کوئی مالدار بن کے جا
میرے بھائی تو گلگت کا ہے خدمتگا ر بن کے جا

وہ گلیوں میں جیجیک بینئو،چیزولتئے کی صدا ئیں ہو ں
اوا سے ان با؟بے گا صم ہَن، مَا جم جم کی ادایئں ہو ں

و ہ تیرے شہر کے ہفتہ جمعہ بازار کی چیزیں
اٹھا لائیں گے میرے اہل دل فیشن کی سوغاتیں

کو ئ کیپ شا ل ہو لہنگے ہو یا چنر ی غرارے ہوں
یہاں پہ بیٹھے پیاروں کو جلا نے کے بہانے ہوں

یہاں پہ کیوں نہیں ہفتہ جمعہ اتوار بازار یں ؟؟؟
بھلا ہو گا کسی کا وہ جو فیشن کے ہیں متو لے

کبھی سستا بکے گلگت میں چیزیں تو غنیمت ہے
کمیشن کم ملے لالے کو سودے میں تو حکمت ہے

نظارہ روپ یارو موسموں میں خوب ہوتا ہے
لٹا کر ڈالروں کو شہر میں ہی دھوپ ہو تا ہے

چلو کر تم مزے نوشی کو دو چند ِاک دعا ئیں بھی
اسی سے منسلک کچھ راز ہیں تیرے فسا نے بھی

نوشاد شیراز نوشی کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع گلگت سے ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ایم ایس سی کرنے کے بعد پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرتی ہیں۔ وہ ادب و شاعری کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر بھی لکھتی ہیں۔

Advertisement
Click to comment

مقبول تریں

ٹول بار پر جائیں