Connect with us

بلاگ

قراقرم ہائی وے پر اخلاقی دیوالیہ پن

یہاں عجب منظر ہے۔ ایک دن میں کئی کئی حادثات معمول بن چکے ہیں۔ غیرملکی سیاح بھاگ کر کچھ عرصے کے لیے مختلف نالوں میں پناہ لے چکے ہیں۔ مقامی لوگ بالخصوص خواتین کو عجیب و غریب تجربات سے واسطہ پڑ رہا ہے۔

وقار احمد ملک

Published

on

قراقرم ہائی وے

ٹھہریے کہانی کو 20 رمضان کے بعد سے شروع کرتے ہیں جب حملہ آور سیاح یہاں نہیں پہنچے تھے۔ میری بیوی اور بہن بچوں سمیت پسو میں ہوٹل کے صحن میں بیٹھی رہتیں۔ ہوٹل کے عین سامنے پسو کے پندرہ بیس نوجوان بیٹھے رہتے کیونکہ یہ جگہ پسو کی بیٹھک سمجھ لیں۔ ان نوجوانوں میں کسی ایک نے بھی کبھی ان خواتین کی جانب اچٹتی نظر بھی نہیں ڈالی۔ ہوٹل میں مزدور کام کر رہے ہیں جن کا تعلق گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے ہے۔ اسی ہوٹل کے کچن میں وہ بھی کھانا پکاتے رہے اور یہ خواتین بھی کھانا پکاتی رہیں لیکن مزدورانتہائی شریف النفس اور احترام کرنے والے۔۔۔

عید کے تیسرے دن میری بیوی اور بہن بے فکری سے ایک مقامی خاتون کے ساتھ ہوٹل کے باہرسڑک پرکھڑی تھیں۔ حملہ آور سیاح آ چکے تھے۔ ہر کوئی بریک لگا کر جائزہ لیتا اور معنی خیز مسکراہٹ سے نوازتا۔ ایسے میں چوتھی یا پانچویں گاڑی تھی جس نے دورسے بریک لگائی۔ ان میں بیٹھے ایک شخص نے موبائل کیمرہ نکالا اور عین خواتین کے سامنے ان کی ویڈیو بناتا اور قہقہہ لگاتا نکل گیا۔ مقامی خاتون کی گاڑی آ گئی وہ نکل گئیں اور یہ خواتین ہوٹل کے اندر آ گئیں۔ اس واقعہ سے ایک اثر یہ ہوا کہ ان خواتین کو یاد آ گیا کہ یہ کہاں سے آئیں تھیں۔ گلگت بلتستان میں رہ رہ کر کچھ زیادہ بے فکری ہو گئی تھیں۔

Karakoram Highway Hunza Gojal Huts

گاڑیوں کو یہاں کی صاف و شفاف سڑک پر دوڑانے کو اپنا ازلی حق سمجھتی یہ مخلوق بھول جاتی ہے کہ یہاں جگہ جگہ پر مقامی آبادیاں ہیں۔ بچے کھیلتے ہوئے اچانک کہیں سے نمودار ہو جاتے ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ بھی فراموش کر دیا جاتا ہے کہ صاف و شفاف سڑک پہاڑوں میں ہے جہاں ڈرائیونگ کی خاص مہارت درکار ہوتی ہے۔ کہاں اوور ٹیک کرنا ہے کہاں نہیں اس سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔

مقامی پولیس ، رضاکار اور جی بی سکاؤٹس بے حد تعریف کے مستحق ہیں جو دن رات ٹریفک کے انتظام میں مصروف ہیں لیکن حملہ آور سیاحوں کا بات نہ ماننا اور تضحیک آمیز رویہ کلیجہ کاٹ کے رکھ دیتا ہے۔ سکاؤٹس اورپولیس مکمل طور پر اس کوشش میں ہے کہ مہانوں کو کسی طرح کی تکلیف نہ ہو لیکن مہمان بدتمیزی کرنے سے باز نہیں آتے۔ مہمانوں کا رویہ بڑی حد تک ایسا ہے جیسے فاتح افواج کا مفتوح علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک خاص نفسیاتی مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں جو انہوں نے درسی کتابوں سے کشید کیا ہے۔۔۔

ہم ہیں۔۔ ازل سے ہم ہیں۔۔ ابد تک ہم ہیں۔۔

ہمارے سوا سب کو قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔۔

ہمارے ایک جوس کے ڈبے کو سڑک پر پھینکنے سے کچھ نہیں ہوتا لیکن باقی لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔۔

جب شیشہ دیکھتے ہیں تو ایک شاہ رخ خان نظر آتا ہے۔۔ پہاڑوں میں رہنے والی لڑکیاں نہ جانے کب سے ان کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔
پھلوں سے لدے درخت ہمارے ہیں۔ آدھا کھانا اور آدھا ضائع کرنا ہمارا حق ہے۔

جب یہ مائنڈ سیٹ باہر کسی ملک میں جاتا ہے تو ان کا ‘مائنڈ’ ٹھکانے آجاتا ہے کیونکہ وہاں قانون سخت ہے۔ ان کو پہلی دفعہ اپنی اوقات کو سمجھنے سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔ لیکن گلگت بلتستان میں انتظامیہ بھی مہمانوں کے حوالے سے حساس دل رکھتی ہے جس سے یہ حملہ آورسیاح انتہائی ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

کل کریم آباد میں عجب منظر دیکھا۔ گاڑیوں کی چھتوں پر بڑے بڑے سپیکرز نصب ہیں اور پورے علاقے کو اپنی پسند کے گانوں سے نوازا جا رہا ہے۔ ایک شرابی جھومتا جھامتا آیا۔ میں اس وقت نظیم کے گھر میں داخل ہو رہا تھا۔ نشے میں چور اس شرابی سے ایک فقرہ مکمل کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ کہنے لگا۔۔ یارا یہ ہنزہ کا ہوٹل بڑا خوبصورت ہے یہ ہوٹل ہے؟ میں نے کہا یہ ہوٹل نہیں گھر ہے۔۔ پھر کہنے لگا نہیں نہیں یہ ہوٹل ہے، ہم اندر آئے گا۔۔ میں نے کہا پولیس کو بلاؤں؟۔۔ کہنے لگا، پولیس کی ماں کی۔۔۔۔

اتنے میں اس کے ساتھ ایک اور شخص اس کو پکڑ کر دوبارہ گاڑی میں بٹھانے لے گیا۔

Gilgit Bazar Gari Bagh

ابھی کریم آباد سے پسو آ رہا تھا۔ راستے میں کھڑے دو پٹھان بھائیوں کو لفٹ دی۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ان کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے۔ ان کا ایک ساتھی تشویش ناک حالت میں ہے۔ بتانے لگا کہ وہ خنجراب جا رہے تھے اور اپنی لائن میں ڈرائیو کر رہے تھے۔ اچانک مخالف سمت میں ایک گاڑی ان کی لائن میں آئی اور ان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ جب دوسری گاڑی میں دیکھا تو گاڑی والے حضرات نشے میں دھت تھے اور پچھلی سیٹ پر شراب کی کچھ خالی اور کچھ بھری بوتلیں پڑی تھیں۔ باریش پٹھان بھائی پوچھنے لگے ہمیں انصاف کیسے ملے گا؟ میں نے جواب دیا کہ اس ملک میں انصاف چاہیے تو بہتر ہے کسی پہاڑ کے دور دراز نالے میں شفٹ ہو جاؤ۔ بیک ویو مرر سے دیکھا تو ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ جواب سے کچھ خاص مطمئن نہیں تھے۔ لیکن میری اپنی مجبوری۔۔ اس ملک میں چالیس برس گزارنے کے بعد مجھے یہی حل سمجھ میں آیا ہے۔

میں اور نظیم گلمت کے پاس تھے جب مخالف سمت سے ایک کیری ڈبے میں سے ڈیڑھ لٹر کی خالی بوتل اچھلی اور سڑک پر آ گری۔ میں نے کیری ڈبے والے کو اشارہ کیا لیکن وہ رکا نہیں۔ میں نے گاڑی روکی اور خالی بوتل کو گاڑی میں پھینکا جو کچرا دان بن چکی ہے۔ دور سے کیری ڈبے والے نے ہاتھ ہلایا۔ حسن ظن سے کام لیتے ہوئے میں نے یہی سمجھا کہ معذرت ہی کر رہا ہو گا۔ لیکن یہاں کون کس کس کو سمجھائے؟ ایک دوحضرات سے اس موضوع پر بات بھی ہوئی کہ گلگت بلتستان میں آپ کو کہیں کوڑا کرکٹ نظر آیا؟ کہیں سیورج کا پانی نظر آیا؟ جب یہ سب کچھ اتنا صاف ہے تو آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں کہ اس صفائی کے پیچھے کسی آسمانی مخلوق کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ یہ لوگ خود ہی صفائی کرتے ہیں۔ آپ کس دل کے ساتھ اپنی گاڑی کا گند اعتماد کے ساتھ باہر پھینک دیتے ہیں۔

گاڑی میں ایک مقامی کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ اس مقامی کو لفٹ دی تھی اس نے ششکٹ تک جانا تھا۔ اس کی گود میں ایک سات آٹھ سالہ بچی تھی۔ اس بچی نے لولی پاپ کا ریپر گاڑی سے باہر پھینک دیا۔ اس پر وہ صاحب غصے میں آگئے اور بچی کو ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے ، “یہ کراچی نہیں ہے ادھر آیا کرو تو انسان بن کے رہا کرو” پھر مجھے دیکھ کر معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگے، معاف کیجئے گا یہ میری نواسی ہے اور یہ لوگ کراچی میں رہتے ہیں۔

مجھے کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس سب ہوئے پر خوش ہو جاؤں کہ گلگت بلتستان کتنا اچھا ہے اور لوگ کتنے پیارے ہیں یا لاہور کراچی پشاور پنڈی وغیرہ کے ہم وطنوں کے رویوں پر ماتم کروں۔

ایک بات ضرور ذہن نشین کر لیجئے کہ جب میں حملہ آور سیاح کی اصطلاح استعمال کرتا ہوں تو وہ ایک خاص پیرائے میں اور مخصوص ٹولے کے لیے استعمال کرتا ہوں۔ سیاحت کے حوالے سے پاکستان میں ان گنت سیاح ایسے ہیں جو انتہائی ذمہ دار ہیں۔ جو پہاڑوں ، بچوں ، خواتین، درختوں اور غشپ کا احترام کرتے ہیں۔ ایسے تمام ہم وطن سیاحوں کو سلام۔

(کالم کی دم۔۔۔۔ وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان سکاؤٹس، پولیس، اور مقامی سکاؤٹس کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے)

وقار احمد ملک کا تعلق پنجاب کے شہر تلہ گنگ سے ہے اور وہ ایکسپریس نیوز کے سفرنامے "سفر ہے شرط" کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر رہ چکے ہیں۔

Advertisement
Click to comment

بلاگ

ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے اور جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا (جے زڈ ٹی) کی کاوشیں

ساجد علی

Published

on

جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا

آج ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے ہے  اور آج کے دن کو تھیلیسیمیا کی آگاہی کے لئے مختص کیا گیا ہے۔ جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا (جے زڈ ٹی) پچھلے دس سالوں سے اس دن کے حوالے سے پورے پاکستان میں تھیلیسیمیا کی آگاہی کے لئے تقریبات کرتی رہی ہے- اس سال چونکہ لوگ کرونا وائرس کی وجہ سے گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں-

اور ان حالات میں تقریبات کو عمل میں نہیں لایا جا سکتا- تو اس سال ورلڈ تھیلیسیمیا ڈے پرہم چاہتے ہیں  کہ میڈیا چینلز اور اخبارات کے زریعے لوگوں تک  تھیلیسیمیا آگاہی کا پیغام پہنچایا جائے۔ آج کے دن کے توسط سے بانی جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا (جے زڈ ٹی) جناب غلام دستگیراور جہاد فار زیرہ تھیلیسیمیا کے تمام رضاکاروں کی طرف سے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اس موذی مرض کو زرہ قریب سے دیکھا جائےاور اس کے خاتمے کے لئے فلفور اقدامات کیے جاہیں-

حکومت کی سپورٹ نہ ہونےکی وجہ سے تھیلیسیمیامریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس پر حکومت کو سوچ سمجھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے- سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے پاس کوئی درست نمبر ہی نہیں ہے کہ پاکستان میں کل کتنے  تھیلیسیمیا میجرکے مریض ہیں- اس حوالے سے جے زڈ ٹی کے دو مطالبات ہیں حکومت پاکستان سے، پہلا مطالبہ یہ ہے کہ تھیلیسیمیا سے متاثر تمام بچوں کی رجسٹریشن کی جائے تاکہ ہمارے سامنے ایک درست نمبر آسکے کہ تھیلیسیمیا مریضوں کا اعداد و شمار کتنا ہے-

ابھی تک جو بھی اسٹیٹکس ہمارے پاس ہیں وہ سب اندازہ کی بنیاد پر ہیں- جب تک ہمیں درست اسٹیٹکس کا علم نہیں ہو گا تب تک ہم کیسے پاکستان سے  تھیلیسیمیا کا خاتمہ کریں گے- جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا (جے زڈ ٹی) بطور رضاکار تنظیم اس مسلے کا حل تجویز کرنا چاہتی ہے، حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی ورکرز جو کہ پولیو جیسی مہم کا حصہ ہیں ان کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ جب بھی پولیو مہم کے لیے کسی شہر یا دیہات میں جائیں تو وہاں سے یہ ضرور معلوم کر لیں کہ یہاں کوئی بچہ ایسا تو نہیں جسے خون لگتا ہو-

اس سے با آسانی ہمیں یہ اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان کے کس شہر، ضلع اور تحصیل میں کتنے تھیلیسیمیا کے مریض ہیں- جب ہمیں یہ پتہ چل جائے گا تو پھر بڑی آسانی سے ہم ان کی فیملیز کو سکرین کر سکتے ہیں- اور آئندہ پیدہ ہونے والے  تھیلیسیمیا مریضوں کو روک سکتے ہیں، اور اسطرح ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کو تھیلیسیمیا فری بنا سکتے ہیں-

آج تھیلیسیمیا ڈے کے حوالے سے جو دوسرا اہم مطالبہ ہم حکومت پاکستان  بلخصوص جناب وزیراعظم عمران خان اور صدرپاکستان جناب ڈاکڑ عارف علوی سے کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا (جے زڈ ٹی) وہ واحد تنظیم ہے جس نے رضاکارانہ طور پر بغیر اپنے رضاکاروں کو کوئی معاوضہ دیے پورے پاکستان میں تھیلیسیمیا سے بچاؤ اور تھیلیسیمیا مریضوں کے لئے بیشتر خدمات انجام دی ہیں- جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا (جے زڈ ٹی) اب تک تقریبا پچاس ہزار سے زائد خون کے بیگز تھیلیسیمیا اور دیگر مریضوں کو عطیہ کر چکا ہے-

جے زڈ ٹی کے پروگرام ایچ ون ایز ون (Each one Ease one )کے تحت سات سو سے زائد تھیلیسیمیا مریضوں کی مالی معاونت کر رہا ہے- اس کہ ساتھ ساتھ فاٹا، ٹرائیبل ایریاز، نارتھ پاکستان میں اپنی ایمبولینس سروس بھی متعارف کرا چکا ہے، جو چند سالوں سے تھیلیسیمیا مریضوں کو خون کے عطیات کے لیے لے جانے اور لانے کے کی خدمات انجام دے رہی ہے- 

جہاد فار زیرو تھیلیسیمیا (جے زڈ ٹی) کے علاوہ بھی پاکستان میں بہت سی تنظیمیں کام کر رہی ہیں- ان تمام رضاکارانہ تنظیموں کی طرف سے حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ان رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے بھی کوئی اقدام ہونا چاہیے- اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ملکی ستہ پر ایک ایواڈ شو منعقد کرایا جائے جس میں تمام رضاکاروں کی خدمات کو سراہا جائے اور ان میں ایواڈز اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کر کے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حکومت پاکستان اپنے ملک میں رضاکارانہ کام کرنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے-

اس عمل سے نہ صرف رضاکاروں کی حصولہ افزائی ہو گی بلکہ دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان اپنے ہیروز کو نہ صرف یاد رکھتی ہے بلکہ انکی پشت پنائی بھی کرتی ہے۔ اللہ وطن عزیز کو قائم و دائم رکھے اور اس مہلک بیماری سے جنگ میں ہماری مدد فرمائے-

Continue Reading

بلاگ

کرونا وائرس کا خوف

الطاف یش

Published

on

کرونا وائرس

پاکستان کے اندر کرونا وائرس کے جو دو کیسیز سامنے آئی تھی ان پہ صرف شک کا اظہار کیا تھا لیکن تصدیق نہیں ہوئی تھی اور انھیں مکمل ٹیسٹ کے بعد کلیئر کردیا لیکن ساتھ ہی کرونا وائرس کی یہ خبر پورے ملک میں جنگل میں آگ سے بھی تیز پھیلا دی گئی اور سوشل میڈیا ہر کوئی بلا تصدیق پوسٹ کرنے لگے.

پورے ملک میں اس نئی وبا نے خوف، سنسنی اور دہشت پھیلا دی ہے۔ میں کسی دکان کے پاس کھڑا تھا اک تقریبا چھ سالہ بچہ آیا اور سہمے ہوئے لہجے میں کہا “ماسک ہے؟” اور بچے نے اپنے سویٹر سے منہ اور ناک چھپایا، پھر وہاں سے واپس چلا گیا۔

میں نے پوچھا کہاں جارہے ہو بیٹا؟

کہنے لگا بازار جانا تھا بس اب نہیں جاونگا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔

ابھی ڈینگی اور پولیو سے ہماری جان نہیں چھوٹی تھی ہم شکست دینے میں صحیح کامیاب نہیں ہوئے تھے کہ یہ بلا بھی آگئی۔ دوسر جانب ہماری میڈیکل مافیا نے بھی اپنا رنگ دکھانا شروع کیا ہے۔ مارکیٹ سے ماسک غائب ہوئے ہیں اور کہیں ملے بھی تو مہنگے داموں!

ہماری انتظامیہ بھی اس بات پہ چپ ہے ساتھ میں یہ بات بھی سننے میں آیا کہ نسوار والوں کو کرونا وائرس نہیں ہوتا مگر جہاں تک سنا ہے کرونا وائرس سگریٹ، نسوا اور منشیات استمال کرنے والوں کو جلد اپنی گرفت میں لیتا ہے ساتھ میں اک یہ جھوٹی خبر سنا کہ پیاز کے استمال سے بھی کرونا وائرس کا علاج ممکن ہے۔

ارے بھئ اگر ایسا ہوتا یہ وبا اتنا نہیں پھیلتا۔ یہ سب جھوٹ اور افواہ ہے۔ ہمارا ملک پہلے سے بہت مسائل کا شکار ہے خدارا ایسی باتیں نہ پھیلاو۔ بیشک کرونا وائرس ایک خطرناک بیماری ضرور ہے لیکن جھوٹی باتوں سے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا نہیں کرو۔

ماسک کا استمال سب کے لئے ضروری نہیں ڈاکٹر ٹیسٹ کے بعد اگر کہے تو ٹھیک ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ایسی بیماریوں، پریشانیوں اور مصیبتوں سے بچائے اور ہمارے ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

آمین۔

Continue Reading

بلاگ

ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ کے تجربہ کار ڈاکٹر

الطاف یش

Published

on

آغا خان ہیلتھ سنٹر

دو ہفتے پہلے میرے موبائل نمبر پہ کال آئی کال اٹھایا تو بتایا گیا کہ گاہکوچ دارلعلوم للبنات میں میری چھوٹی کزن جو 2 سال سے زیر تعلیم ہے وہ بیمار ہیں، آ کے کے گھر لے جائیں۔ جب اسے گھر لایا گیا اور ساتھ دوسری کزن سے میں نے پوچھا تو بتایا کہ آج تین دنوں سے بیمار ہیں۔

مدرسے سے ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ لے جا رہے اور صبح شام درد آرام کا انجکشن لگا کر واپس بیجتے ہیں اور وہاں ڈیوٹی میں موجود ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اسے “Appendix” ہے۔

یہ سن کر حیرت سی ہوئی کہ تین دن ہوگئے اگر ایسی کوئی بات ہے تو انجکشن سے ڈاکٹر کیوں ٹال رہے ہیں اگر آپریشن میں دیر ہوئی تو کافی مسلہ ہوسکتا ہے اگر گاہکوچ میں آپریشن کی سہولت موجود نہیں تو گلگت ریفر کیوں نہیں کر رہے؟ اور گاہکوچ سے 25-30 کلومیٹر کے فاصلے پہ سنگل میں آغا خان ہیلتھ سنٹر ہے جس میں پورے غذر کے تمام ایمرجنسی کیسیز لے جاتے ہیں۔

خیر بات مختصر کرتا ہوں شام کا وقت تھا گاؤں گونرفارم (گوہرآباد) اسی کزن کے والد کو کال کیا تو بچارا یہ خبر سن کر کچھ ہی دیر میں وہاں سے گاڑی لے کر روانہ ہوا اور رات 2 بجے گاہکوچ پہنچا اور بیمار بیٹی کو لے کر سیدھے واپسی کی پوری رات سفر کے بعد صبح 7 بجے گاوں پہنچے اور وہاں سے ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس لے گئے اور چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کے لئے دیا اور 12 بجے کے بعد پتا چلا کہ کوئی “Appendix ” یا اس قسم کی کوئی بیماری نہیں بلکہ کوئی نارمل سی بیماری ہے اور ایک ہفتے کی دوائی دی اور اب الحمداللہ ٹھیک ہے۔

کیا گاہکوچ میں اتنے کم تجربہ کار ڈاکٹر ہیں؟

کیا “Appendix ” کے مریض کو انجکشن لگا کے ٹالنا ٹھیک ہے؟

خدانخواستہ اگر کچھ ہوجاتا تو ذمہ دار کون تھا؟

Continue Reading

مقبول تریں