Connect with us

صحت

سیڈو نے سموک فری ہنزہ مہم کا آغاز کر دیا

اسلم شاہ

Published

on

ہنزہ (اسلم شاہ) گلگت بلتستان حکومت اور غیر سرکاری ادارہ ادارہ سیڈو کی جانب سے سموک فری ہنزہ (تمباکو سے پاک ہنزہ) کا باقاعدہ آغاز محکمہ تعلیم سمیت درجنوں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اس مہم میں شرکت اپنے دفاتر اور گردونواح کو تمباکو اور تمباکو کے تمام اشیاء پر پابندی کا اعلان کیا۔

مہم کا آغاز ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکشن محمد شریف نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن آفس کو سموک فری قرار دیکر کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ بوائز ہائی سکول علی ہنزہ میں سیڈو کے ضلع ہنزہ کے کوآرڈینیٹر اسلم شاہ نے ایک آگاہی پروگرام کے بعد اس مہم کے عملی کام کا آغاز کیا۔سموک فری پروگرام میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکشن آفس، بوائز ماڈل ہائی سکول علی آباد، سیڈنا سکول اینڈ ڈگری کالج، ہنزہ پبلک سکول اینڈ ڈگری کالج علی آباد ہنزہ، اسکائی ہائراسکینڈری سکول علی آباد ہنزہ،نائب تحصیل دار آٖفس علی آباد ہنزہ، ٹاون منیجمٹ کریم آباد ہنزہ، بلتت یوتھ آرکنائزیشن کریم آباد ہنزہ کے علاوہ کئی اداروں نے اس مہم میں باقاعدہ شرکت کا اعلان کیا اور عملی طور پر تمباکو نوشی سے کی ممانیت کے اسٹیکرز اور اشتہارات اپنے اپنے آفس میں آویزاں کئے۔

گلگت بلتستان حکومت اور غیر سرکاری ادارہ ادارہ سیڈو کی جانب سے سموک فری ہنزہ (تمباکو سے پاک ہنزہ) کا باقاعدہ آغاز محکمہ تعلیم سمیت درجنوں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں نے اس مہم میں شرکت اپنے دفاتر اور گردونواح کو تمباکو اور تمباکو کے تمام اشیاء کی اشیاء پر پابندی کا اعلان کیا۔مہم کا باقاعدہ آغاز ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکشن محمد شریف نے اپنے دفاتر کو سموک فری قرار دے کر کیا۔اس موقع پر انہوں نے گلگت بلتستان حکومت، محکمہ تعلیم اور سیڈو کی اس اقدام کو سہراتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو اس زہر سے دور رکھنے کے لیے گلگت بلتستان حکومت اور محمکہ تعلیم کی یہ کوششیں بہت اہم اور بروقت ہیں تعلیمی ادارے ہی معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں اور اس مہم کو پورے ہنزہ کے ہر ایک ادارے میں متعارف کروانا چاہیے۔

سموک فری ہنزہ مہم کا باقاعدہ بوائز ماڈل ہائی سکول علی آباد ہنزہ ہو ا، اس دوران ہیڈ ماسٹر محمد اسماعیل نے تمباکو نوشی کے نقصانات سے طلبا کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جن طلباء کے والدین تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں نہ صرف وہ اپنا نقصان کرتے ہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کے صحت کو بھی خراب کرتے ہیں انہوں نے طلباء کو اپنے والدین کو منشیات سے دور رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس آگاہ مہم میں سیڈو کے ضلعی کواڈینٹر اسلم شاہ نے اس مہم کے اغراض سے طلباء کو آگاہ کیا۔

اس مہم کے دوران سیڈنا سکول اینڈ ڈگری کالج کے پرنسپل خانم امان،ہنزہ پبلک سکول ایند ڈگری کالج علی آباد کے پرنسپل اسکائی ہائر اسکینڈری کے پرنسپل نائب تحصیل دار فرمان کریم، بلتت یوتھ آرگنائزیش کے صدر منصور عالم،بلتت ٹاون منیجمنٹ کے صدر رحمت کریم نے اپنے آفس میں سگریٹ نوشی کے ممانیت اسٹیکراور اشتہار لگا کر مہم میں شمولیت کی۔

اس موقع پر ہنزہ سول سروسز کے نمائندوں کا کہناتھا کہ تمباکو نوشی کے خلاف موجودہ قوانین پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عمل درآمد کروانے کی اشد ضرورت ہے۔

اسلم شاہ کا تعلق ضلع ہنزہ سے ہے اور وہ ہنزہ پریس کلب کے رکن اور ماہنامہ کنجوت ٹوڈے میگزین کے ایڈیٹر بھی ہیں

Advertisement
Click to comment

بلاگ

کرونا وائرس کا خوف

الطاف یش

Published

on

کرونا وائرس

پاکستان کے اندر کرونا وائرس کے جو دو کیسیز سامنے آئی تھی ان پہ صرف شک کا اظہار کیا تھا لیکن تصدیق نہیں ہوئی تھی اور انھیں مکمل ٹیسٹ کے بعد کلیئر کردیا لیکن ساتھ ہی کرونا وائرس کی یہ خبر پورے ملک میں جنگل میں آگ سے بھی تیز پھیلا دی گئی اور سوشل میڈیا ہر کوئی بلا تصدیق پوسٹ کرنے لگے.

پورے ملک میں اس نئی وبا نے خوف، سنسنی اور دہشت پھیلا دی ہے۔ میں کسی دکان کے پاس کھڑا تھا اک تقریبا چھ سالہ بچہ آیا اور سہمے ہوئے لہجے میں کہا “ماسک ہے؟” اور بچے نے اپنے سویٹر سے منہ اور ناک چھپایا، پھر وہاں سے واپس چلا گیا۔

میں نے پوچھا کہاں جارہے ہو بیٹا؟

کہنے لگا بازار جانا تھا بس اب نہیں جاونگا مجھے ڈر لگ رہا ہے۔

ابھی ڈینگی اور پولیو سے ہماری جان نہیں چھوٹی تھی ہم شکست دینے میں صحیح کامیاب نہیں ہوئے تھے کہ یہ بلا بھی آگئی۔ دوسر جانب ہماری میڈیکل مافیا نے بھی اپنا رنگ دکھانا شروع کیا ہے۔ مارکیٹ سے ماسک غائب ہوئے ہیں اور کہیں ملے بھی تو مہنگے داموں!

ہماری انتظامیہ بھی اس بات پہ چپ ہے ساتھ میں یہ بات بھی سننے میں آیا کہ نسوار والوں کو کرونا وائرس نہیں ہوتا مگر جہاں تک سنا ہے کرونا وائرس سگریٹ، نسوا اور منشیات استمال کرنے والوں کو جلد اپنی گرفت میں لیتا ہے ساتھ میں اک یہ جھوٹی خبر سنا کہ پیاز کے استمال سے بھی کرونا وائرس کا علاج ممکن ہے۔

ارے بھئ اگر ایسا ہوتا یہ وبا اتنا نہیں پھیلتا۔ یہ سب جھوٹ اور افواہ ہے۔ ہمارا ملک پہلے سے بہت مسائل کا شکار ہے خدارا ایسی باتیں نہ پھیلاو۔ بیشک کرونا وائرس ایک خطرناک بیماری ضرور ہے لیکن جھوٹی باتوں سے لوگوں کو خوف و ہراس میں مبتلا نہیں کرو۔

ماسک کا استمال سب کے لئے ضروری نہیں ڈاکٹر ٹیسٹ کے بعد اگر کہے تو ٹھیک ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ایسی بیماریوں، پریشانیوں اور مصیبتوں سے بچائے اور ہمارے ملک کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

آمین۔

Continue Reading

پاکستان

پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آگئے، ایک کا تعلق گلگت بلتستان سے

جی بی اسٹاف

Published

on

پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آگئے، ایک کا تعلق گلگت بلتستان سے
وائس آف امریکہ

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایک کیس کی تشخیص کراچی کے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں جبکہ دوسرے کیس کی تشخیص اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ(این آئی ایچ) میں ہوئی۔

 وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے پاکستان میں کورونا وائرس کے 2 کیسز کی تصدیق کرتے ہوئےکہا ہے کہ  دونوں مریضوں کا اسپتال میں علاج کیا جارہا ہے اور دونوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

یحییٰ جعفری 10 فروری کو تہران سے قُم پہنچا اور فلُو کا شکار ہوا،18 فروری کو اسے بخار،سردرد،ناک کا بہنا اور جسم میں درد شروع ہوا، 6 روز بعد کراچی کے نجی اسپتال میں ٹیسٹ کروایا تو کورونا کی تصدیق ہوئی جس کے بعد اسے خصوصی وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکام وزارت صحت کے مطابق کورونا وائرس کا دوسرا کیس اسلام آباد میں سامنے آیا ہے، متاثرہ شخص کا تعلق  گلگت بلتستان سے ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ(این آئی ایچ) نے متاثرہ شخص کے ٹیسٹ کے بعد کورونا وائرس کی تصدیق کی ہے جس کے بعد اسے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز( پمز) میں آئیسو لیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضٰی وہاب کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کو فوری طور پر آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیاہے جب کہ اس کے ساتھ جہاز میں سفر کرنے والے دیگر افراد کو بھی تلاش کررہے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ یحیٰی جعفری کو شایدائیرپورٹ پر اسکین نہیں گیا گیا تھا، ائیرپورٹ صوبائی حکومت کے نہیں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں،ائرپورٹ پر فوری طور پر نگرانی بڑھانے کی ضرورت تھی۔ سندھ حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت تمام اقدامات کررہی ہے،کورونا وائرس سے متعلق کٹس موجود ہیں جو کہ اسپتال میں فراہم کردی گئیں ہیں،ایران سےآنے والی فلائٹس روکنا بھی ضروری قدم ہوگا۔

 کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر پاکستان اورایران میں براہ راست پروازوں پر تاحکم ثانی پابندی عائد کردی گئی ہے، لاہور کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے تمام حصوں سے ایران جانے والی تمام پروازیں بند رہیں گی۔

کروناوائرس کیس سامنے آنے پر سرجیکل ماسک کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، 50 سرجیکل ماسک کےڈبےکی قیمت میں1500روپےتک اضافہ ہوا اور 80 روپے والا ڈبہ 2500 روپے تک فروخت ہونے لگا۔ دوسری جانب تاجروں نے سرجیکل ماسک مارکیٹ سےغائب کردیئے،اے آروائی نیوز کے اسٹنگ آپریشن لیکن کسی کے کان پرجوں نہیں رینگی ،مارکیٹ میں سرجیکل ماسک کا باکس ایک ہزارروپے کاہوگیا ہے۔

Continue Reading

خبریں

بلتت یوتھ آرگنائزیشن کا ہنزہ میں تمباکونوشی کے خلاف دفعہ 144 لگانے کی حمایت

اسلم شاہ

Published

on

بلتت یوتھ آرگنائزیشن

ڈی سی ہنزہ فیاض احمد کی جانب سے ضلع ہنزہ میں تمباکونوشی کے خلاف دفعہ 144 نافذ کرنے کے بڑے قدم کو نوجوان لیڈرز منصور شریف صدر بلتت یوتھ آرگنائزیشن اور محمد فضائل جنرل سیکرٹری بلتت یوتھ آرگنائزیشن نے خوش آئند قرار دیا ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں منصور شریف اور محمد فضائل نے خوش آیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے نئی نسل کو تمباکو نوشی سے بچانے میں مدد ملے گی۔

اس سے قبل ڈی سی ہنزہ فیاض احمد غیر سرکاری فلاحی ادارہ سیڈو کی مشترکہ مہم تمباکو سموک فری ہنزہ مہم کے تحت ہنزہ بھر میں ا ٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو تمباکو کے اشیاء فروخت کرنے، کھُلا سگریٹ فروخت کرنے، تعلیمی اداروں اور صحت کے اداروں سے 50 میٹر فاصلے کے اندر تمباکو نوشی سے متعلق اشیاء فروخت کرنے، تمام پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی کرنے،تمام پبلک علاقوں میں تمباکو نوشی کرنے اور تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں تمباکو نوشی کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمباکو نوشی کے خلاف ہنزہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کیا تھا۔

محمد فضائل جنرل سیکرٹری بلتت یوتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہنزہ سے منشیات کے خاتمے کے لیے نوجوان اور بلتت یوتھ آرگنائزیشن ڈپٹی کمشنر کے ان اقدامات کو عملی شکل دینے کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔

بلتت یوتھ آرگنائزیشن کے صدر منصور شریف نے کہا کہ یوتھ اور ہنزہ کی عوام کو چاہئے کہ وہ اس عمل کی حمایت کریں اور ہنزہ میں تمباکونوشی کے خلاف لگائے گئے دفعہ 144 کو نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔

Continue Reading

مقبول تریں