Connect with us

سماجی مسائل

گلگت بلتستان میں خود کشی کے اسباب اور تدارک

سیما کرن

Published

on

Seema Kiran - Gilgit-Baltistan Journalist

گلگت بلتستان کے دل دہلانے والے خود کشی کے پے در پے واقعات نے آج مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ گلگت بلتستان کی دنیا بھر کے لئے اس کی قدرتی حسن جفاکش لوگ اور مہمان نوازی کے لئے بہت مشہور ہے۔ گلگت بلتستان میں پچھلے کچھ دہائیوں سے جس رفتار سے ترقی ہوئی ہے اس کے ساتھ ساتھ کچھ مسائل نے بھی جنم لیا ہے۔ ان مسائل میں خود کشی سر فہرست ہے جس کا تناسب پچھلے چند سالوں میں بہت بڑھا ہے۔

اس رجحان میں 2009 سے 2019 کے درمیان تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک عام مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ خود کشی کا رجحان مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ ہے جن کی عمر 14 سے 32 سال ہے۔ ان واقعات نے ہر ذی شعور کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ ہر سطح پر ان واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں حال ہی میں BBCکی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ضلع غزر میں ہر سال 20 خواتین خود کشی کر لیتی ہیں۔

مقامی پولیس سٹیشن سے جاری کردہ اعداد و شمار حقائق سے بہت کم ہیں کیونکہ مقامی لوگوں کے بیان کے مطابق ہر مہینہ 3 خواتین اوسطا خودکشی کر لیتی ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو قابل غور اور توجہ طلب ہے۔ ایسے کونسے حالات ہیں جن کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ ان معرکات کو جانچنے کے بعد ادراک کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لئے مختلف سطح پر آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

مفکرین کی رائے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومتی سرپرستی درکار ہوگی۔ اس امر کی نشاندہی کرنا ہوگی جس کی وجہ سے بے شمار نوجوانوں کی موت واقع ہوئی ہے اور یہ ایک قومی نقصان ہے۔اسی طرح ایک عام وجہ یہ بھی ہے کہ والدین کی معاشی حالات کمزور ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کو ضروریات پوری نہیں کر سکتے اور اس کی وجہ بچے بد دل ہو جاتے جو کہ خود کشی کا باعث بن جاتا ہے۔ اس طرح کے ان گنت وجوہات ہو سکتے ہیں۔

بحیثیت انسان اور اس معاشرے کا جز ہونے کے ناطے اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس طرح کے واقعات اور انکی وجوہات پہ غور کریں اور جب اپنے پیاروں میں ان عوامل کے آثار دکھائی دیں تو ان پر خصوصی توجہ دینا لازمی ہوتا ہے اور انکو مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے ہمت دینا ہوگا۔ خود کشی بزدل لوگوں کا کام ہے اور خود کشی ہر گز مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس طرف اس بڑھتے رجحان کو ختم کرنے اور گلگت بلتستان کی ا چھی تصویر دنیا کو دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اس معاملے کے چند وجوہات اور بھی ہوسکتے ہیں مثلا بچوں کا والدین بہن بھائی دوست یا اساتذہ کے درمیان فاصلہ یعنی بچے اپنی بات کھل کر کسی کو نہیں بتاتے اور جن کے مشکلات اور مسائل کا حل نکالنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری وجہ یہ یوسکتی کہ والدین نے اپنے بچوں کو ناکامی سے خوف زدہ کر کے رکھا ہے .. ہم بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ فیل ہونا بری بات نہیں بلکہ ہمت ہارنے میں ناکامی ہے .. کیونکہ اکثر ایسے واقعات سننے کو ملے ہیں کہ چند بچوں نے میٹرک کا نتیجہ بُرا آنے کی وجہ سے خود کشی کیا۔

عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں کیونکہ بڑھتی عمر کے ساتھ انسانی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ جسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے اور افسردہ ہوجاتے ہیں۔ جیسے جیسے معاشرہ جدیدیت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ والدین بچوں کی ہر خواہش اور ضد پوری کرتے ہیں جس سے بچے خیالی دنیا میں دنیا میں رہنے لگتے ہیں مگر جب حقیقی دنیا سے انکا سامنا ہوتا ہے تو ان میں تلخی سہنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

سیما کرن کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ سے ہے۔ وہ کراچی سے صحافت کی ڈگری کرنے کے ساتھ ساتھ روزنامہ وطین گلگت-بلتستان کے اخبار میں بطور بیورو چیف کراچی کام کرتی ہیں۔

Advertisement
Click to comment

سماجی مسائل

ہم نے اپنے گھروں کو ڈوبتے دیکھا

الطاف یش

Published

on

لینڈ سلائڈنگ کا مخصوص وقت ہوتا ہے جو کہ اپریل سے ستمبر کے پہلے ہفتے تک رہتا ہے جس میں آسمانی بجلی کی گرج چمک اور تیز بارش کے باعث پہاڑوں پہ گری آسمانی بجلی اپنے سامنے آنے والی ہر چیز درخت پتھر مٹی کھیت گھر جانور انسان کو اپنے ساتھ ملا کے انتہائی خوفناک شکل میں دریا تک پہنچتی ہے۔ اس کی وجہ سے دور تک زلزلے کی جیسی ڈراؤنی آواز آتی ہیں اور سننے والا ہر شخص کانپے لگتا ہے۔

2 ستمبر کی شام ہمارے محلے میں اندزہ ہونے لگا کہ سیلاب کا خطرہ ہے کیونکہ پچھلے 48 گھنٹوں سے بارش بلکل رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ سب لوگ خوف اور پریشانی میں تھے۔بارش تیز سے تیز ہو رہی تھی۔ میں گھر سے کچھ فاصلے پر ایک پیٹرول پمپ کے ساتھ جو کہ پہاڑ سے آنے والا بارش کے پانی کا راستہ ہے وہاں بار بار جا کر معائنہ کرتا رہا۔ رات کے تقریبا ساڑھے بارہ بجے مجھے اندازہ ہوگیا کہ پانی کی مقدار زیادہ ہو رہی ہے۔محلے کے تقریبا سارے ہی لوگ اپنے گھروں میں سو رہے تھے۔

دو دوستوں کے علاوہ میرا کسی کے ساتھ رابطہ نہ ہو سکا پھر میں گھر میں اپنے کمرے میں لیٹا گھر کی چھت پہ بارش کے تیز رفتار قطروں نے سونے نہ دیا۔ کچھ ٹائم بعد میں موبائل میں نے ٹائم دیکھا تو رات کے 03:13 بجھ گئے تھے۔ موبائل سرہانے کے ساتھ رکھا ہی تھا کہ کال آئی۔ کال اٹھایا تو ایک دوست نے کہا لہ جلدی سے اپنے گھر والوں کع باہر نکالو سلائڈنگ ہورہی ہے اور سیلاب کا رخ ہمارے محلے کی جانب ہے۔

اس وقت کا خوف اور ڈر شاید ہی بیان نہیں کرسکوں۔ جلدی سے اٹھا، سارے گھر والوں کو جگایا اور بڑی مشکل سے صرف ایک دوست کو کال لگی جسے میں نے خبردار کیا۔ تھوڑی دیر بعد نیٹ ورک نے بھی جواب دے دیا اور کسی کو کال نہ کر سکا۔ میں گھر والوں کو باہر نکالنے دروازے پر نکلا تو دیکھا کہ سیلابی پانی دروازے تک پہنچ چکا ہے۔

گھر والوں بمشکل باہر نکالنے لگا اور دادی اماں جن کی عمر تقریباً 120 برس ہے انھیں لینے آندھرے میں گھر دوبارہ داخل ہوا تو محلے کے ہر طرف سے چیخ پکار کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔

باہر کافی لوگ ننگے پاوں تھے اور زیادہ تر لوگ نیند کی حالت میں تھے۔ سردی بھی تھی اور بارش تیز سے تیز ہو رہی تھی جبکہ سیلابی پانی اور لوگوں کی آوازیں دور تک گھونج رہی تھیں۔ یہ ایسا قیامت خیز منظر تھا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گھر والوں کو محلے سے باہر محفوظ مقام پر نکالنے کے بعد کچھ اہم اشیاء لینے جب دوبارہ گھر کی طرف جانا چاہا تو دیکھا کہ سارا محلہ پانی میں ڈوب چکا ہے اور کسی صورت گھر پہنچنا ممکن نہیں۔ کچھ وقت انتظار کے بعد آخر بڑی مشکلوں سے اپنے چھوٹے بھائی اور کچھ دوست سمیت ایک دوسروں کے ہاتھ پکڑھ کر گرتے ڈوبتے ہوئے گھر تک پہنچے۔ گھر کے سارے کمروں میں پانی بھر چکا تھا۔ ایک کھڑکی کی جالی پھاڑ کر اندر داخل ہوئے اور اپنے ضروری دستاویزات، کاغذات اور نقدی رقم نکالنے میں کامیان ہوئے۔ واپسی پر دیکھا کہ پانی کا بہاؤ اور زیادہ ہو رہا ہے اور ساتھ ہی بارش بھی تیز ہو چکی تھی۔ رستے میں ایک اور دوست سے بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گھر کی دیواریں گر چکی ہیں اور ہم بمشکل اپنی جان بچا کر وہاں سے نکلے ہیں۔

صبح ہوئی تو پتا چلا محلے کے 64 گھرانے سیلاب کی زد میں میں آچکے ہیں۔ محلے کے کم و بیش سارے رہائشی بےگھر ہوچکے تھے۔ بعض نے اپنے دوست رشتہ داروں کے گھر اور بعض نے ہوٹلوں میں 3 دن گزارے اور حالات جب بہتر ہوئے تو اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ محلے کی کوئی گلی سڑک مکان سلامت نہیں رہا تھا۔ حکومت کی طرف سے کوئی امدادی کاروائی نہ ہونے کے بعد محلے والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مرمت کا کام شروع کیا اور تاحال جاری ہے۔

Continue Reading

خبریں

سیڈو گلگت بلتستان کی جانب سے ہنزہ انسداد تمباکو مہم جاری

رحیم امان

Published

on

Smoking in Hunza

ہنزہ (رحیم امان) سیڈو گلگت بلتستان کی جانب سے ہنزہ انسداد تمباکو مہم جاری، عوام الناس کو تمباکو خاص کر سگریٹ کے دھواں کے ساتھ کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلاو کے خطرے سے آگاہ کرنے کے اور وبا کے دوران تمباکو نوشی کے عادی افراد لاحق خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے پمفلٹ کی تقسیم کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ہنزہ بھر میں حکومت گلگت بلتستان اور غیر سرکاری و فلاحی ادارہ سیڈو کا مشترکہ مہم کے تحت تمباکو نوشی اور تمباکو نوشی کے متعلق قوانین کی عمل درآمد کے لیے دفعہ 144 پہلے سے ہی لاگو ہے جس کے تحت کم عمر بچوں کو سگریٹ بھیجنے،کھلا سگریٹ فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور صحت عامہ کے اداروں کے اطراف میں پچاس میٹر تک تمباکو نوشی سے متعلق اشیاء کی خرید وفروخت پر پابندی عائد ہے۔

کورونا وئرس سے پیدا شدہ صورتحال میں بھی سیڈو گلگت بلتستان کا مہم جاری ہے جس کے تحت ہنزہ میں عوام الناس کو تمباکو نوشی کے نقصانات اور خاص کر ان حالات میں جب کہ کورونا وبا پھیل رہی ہے تمباکو نوشی کے مضر اثرات بڑھ رہے ہیں اس صورتحال حال سے آگاہ کرنے کے لیے مہم جاری ہے عوام الناس کو بروشرز اور پمفلٹ کے ذریعے آگاہی دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سلسلے میں کریم آباد ہنزہ اور حیدر آباد ہنزہ میں عوام الناس کو تمباکونوشی کے مضمرات اور اس سے پھیلتے اور بڑھتے ہوئے کورونا کے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ لوگوں میں بروشرز تقسیم کئے گئے اور آگاہی دی گئی۔ اس موقع پر سگریٹ کے کے دھواں کے ساتھ تیزی کوروناوائرس کی پھیلاو کے بڑھتے خطرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو کورونا وائرس کی پھیلاو سے بچانے کے لیے عملی طور پر ہاتھوں کو سنیٹائز کروا کر کورونا کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرنے پر زور بھی دیا گیا۔

Continue Reading

خبریں

ڈپٹی کمشنر ضلع ہنزہ کی سربراہی میں انسداد تمباکو ٹاسک فورس کا قیام

اسلم شاہ

Published

on

Smoking in Hunza
Photo: Alex Reynolds

ہنزہ (بیورہورپورٹ) ڈپٹی کمشنر ضلع ہنزہ بابر صاحب الدین کی سربراہی میں تمباکو نوشی کے خلاف قوانین پر عمل درآمد کروانے کے لیے انسداد تمباکو ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا نوٹیفیکیشن جاری۔

ٹاسک فورس کا چیئرمین ڈپٹی کمشنر ہنزہ، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن،ڈائریکٹر ہیلتھ ضلع ہنزہ،پرنسپل ڈگری کالج علی آباد،اسسٹنٹ کمشنر علی آباد اور گوجال،ایس ڈی پی او ہیڈکوارٹر علی آباد،چیف آفیسرڈسٹرکٹ ہنزہ کونسل، چیف آفیسر میونسپل کمیٹی ہنزہ اور سیڈو کے ضلع ہنزہ کے کورڈینیٹرممبر ہونگے۔ٹاسک فورس کا ہر ماہ ایک اجلاس چئیرمین کی سربراہی میں ہوگا اور اجلاس میں انسداد تمباکو نوشی کے قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان حکومت اور غیر سرکاری اور فلاحی ادارہ سیڈو کا مشترکہ مہم تمباکو نوشی سے پاک گلگت بلتستان مہم کے تحت کمشنر گلگت ڈویژن کے ہدایت پر ضلع ہنزہ میں تمباکو نوشی کے خلاف موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے یہ ٹاسک فورس ضلع ہنزہ میں تمباکو نوشی کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل کروانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انسداد تمباکو آڈیننس 2002کے تحت تمام قوانین پر عمل درآمد یقینی بنائی جائے گی۔ انسداد تمباکو 2002 کے آرڈننس کے مطابق اٹھارہ سے کم عمر بچوں کو کسی بھی قسم کی تمباکو نوشی کے اشیاء کی فراہمی پر مکمل پابندی ہوگی۔ تعلیمی اد اروں اور صحت کے اطراف میں پچاس میٹر تک تمباکو نوشی کے اشیاء کی خرید وفروخت پر مکمل پابندی عائد ہوگی، کوئی بھی دکاندار کُھلا سیگریٹ نہیں بھیج سکے گا یا ایسا پیکٹ جس میں 20 دانوں سے کم تعداد میں سگریٹ موجود ہوگی بیجنے پر پابندی ہوگی۔

عوامی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ میں تمباکو نوشی اور تمباکو نوشی کے متعلق اشیاء کی نقل و حمل پر پابندی عائد ہوگی، ان قوانین کے علاوہ بھی دیگر اہم قوانین پر عمل درآمد انسداد تمباکو نوشی کے آرڈننس کے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر ضلع ہنزہ نے اس سے پہلے ہی ڈسٹرکٹ ہنزہ میں تمام سرکاری اداروں میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

Continue Reading

مقبول تریں