Connect with us

بلاگ

نمائندگی سے محروم ہنزہ مختلف مسائل کا شکار

اسلم شاہ

Published

on

Mir Ghazanfar Ali Khan, Rani Atiqa, Hunza district

ہنزہ (رپورٹ اسلم شاہ) نمائندگی سے محروم ہنزہ مختلف مسائل کا شکار ،میونسپل کمیٹی کے پاس وسائل نہیں ،ہنزہ کے ترقیاتی منصوبے تعطل کا شکار ،علاقہ بجلی سے محروم ،نوکریوں کے کوٹہ میں مسلسل کٹوٹی جیسے اہم مسائل کا آماجگاہ بن گیا۔

ضلع ہنزہ گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر میں اپنی قدرتی خوبصورتی اور مہمان نوازی کے باعث مشہور ہے آج کل ہنزہ گلگت بلتستان کا ایک ایسا ضلع بن گیا ہے جہاں پر مسائل کے انبار لگے ہیں ہنزہ گزشتہ کئی مہنوں سے نمائندگی سے محروم ہے جس کے باعث ہنزہ کے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ ہنزہ مختلف مسائل کا شکار نظر آرہا ہے۔

ہنزہ میں بجلی کی کمی بحرانی کیفیت اختیار کر گئی ہے. گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر اور رانی عتیقہ ہنزہ کے ترقیاتی منصوبوں کونظر انداز کرنے کی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ ہنزہ کے ترقیاتی منصوبوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کی باعث ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈر نہیں ہوپاتی ہیں حالانکہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور ڈاکٹر اقبال کے منصوبے تکمیل کو پہنچ رہے ہیں، وہیں ہنزہ کے ترقیاتی منصوبے ابھی تک شروع ہونے نہیں پائے ہیں۔

سی پیک کا پاکستان میں نقطہ آغاز ہی ضلع ہنزہ سے ہوتا ہے اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں سب سے زیادہ راستہ بھی ضلع ہنزہ کے سر زمین پرسے گزرتا ہے اور سی پیک کے اسامیوں میں اس کے باوجود ہنزہ کو سب سے کم کوٹہ ملنا اور دیگر مسائل کے باعث ہنزہ کے عوام میں احساس محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہنزہ جیسے سیاحتی مقام پر میونسپل کمیٹی کے پاس وسائل کافقدان ہے روزبروز سیاحوں کی بڑھتی تعداد اور پھیلتی آبادی کے باعث ہنزہ میں زمینی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ وزیر اعلی گلگت بلتستان نے ہنزہ کے میونسپل کمیٹی کو وسائل فراہم کرنے کا وعدہ کھلی کچہری اور دیگر تقریبات میں کرنے کے بعد بھول گئے ہیں۔

پورے ہنزہ کو صاف رکھنے کے لیے صرف دو ٹریکٹر اور مختصر عملہٰ کا ہونا ایک بڑا مسلہ بن گیا ہے۔اور اس کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندگی کا نہ ہونے کی وجہ عوام میں غم وغصہ میں اضافہ ہو ا ہے۔

حکومت کو ہنزہ کے ان تمام اہم مسائل کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہنزہ کے عوام کے مسائل میں کمی واقع ہو اور عوام میں موجود بے چینی کا تدارک ہوسکے۔

اسلم شاہ کا تعلق ضلع ہنزہ سے ہے اور وہ ہنزہ پریس کلب کے رکن اور ماہنامہ کنجوت ٹوڈے میگزین کے ایڈیٹر بھی ہیں

Advertisement
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

بلاگ

ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ کے تجربہ کار ڈاکٹر

الطاف یش

Published

on

آغا خان ہیلتھ سنٹر

دو ہفتے پہلے میرے موبائل نمبر پہ کال آئی کال اٹھایا تو بتایا گیا کہ گاہکوچ دارلعلوم للبنات میں میری چھوٹی کزن جو 2 سال سے زیر تعلیم ہے وہ بیمار ہیں، آ کے کے گھر لے جائیں۔ جب اسے گھر لایا گیا اور ساتھ دوسری کزن سے میں نے پوچھا تو بتایا کہ آج تین دنوں سے بیمار ہیں۔

مدرسے سے ڈی ایچ کیو ہسپتال گاہکوچ لے جا رہے اور صبح شام درد آرام کا انجکشن لگا کر واپس بیجتے ہیں اور وہاں ڈیوٹی میں موجود ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اسے "Appendix” ہے۔

یہ سن کر حیرت سی ہوئی کہ تین دن ہوگئے اگر ایسی کوئی بات ہے تو انجکشن سے ڈاکٹر کیوں ٹال رہے ہیں اگر آپریشن میں دیر ہوئی تو کافی مسلہ ہوسکتا ہے اگر گاہکوچ میں آپریشن کی سہولت موجود نہیں تو گلگت ریفر کیوں نہیں کر رہے؟ اور گاہکوچ سے 25-30 کلومیٹر کے فاصلے پہ سنگل میں آغا خان ہیلتھ سنٹر ہے جس میں پورے غذر کے تمام ایمرجنسی کیسیز لے جاتے ہیں۔

خیر بات مختصر کرتا ہوں شام کا وقت تھا گاؤں گونرفارم (گوہرآباد) اسی کزن کے والد کو کال کیا تو بچارا یہ خبر سن کر کچھ ہی دیر میں وہاں سے گاڑی لے کر روانہ ہوا اور رات 2 بجے گاہکوچ پہنچا اور بیمار بیٹی کو لے کر سیدھے واپسی کی پوری رات سفر کے بعد صبح 7 بجے گاوں پہنچے اور وہاں سے ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس لے گئے اور چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ کے لئے دیا اور 12 بجے کے بعد پتا چلا کہ کوئی "Appendix ” یا اس قسم کی کوئی بیماری نہیں بلکہ کوئی نارمل سی بیماری ہے اور ایک ہفتے کی دوائی دی اور اب الحمداللہ ٹھیک ہے۔

کیا گاہکوچ میں اتنے کم تجربہ کار ڈاکٹر ہیں؟

کیا "Appendix ” کے مریض کو انجکشن لگا کے ٹالنا ٹھیک ہے؟

خدانخواستہ اگر کچھ ہوجاتا تو ذمہ دار کون تھا؟

Continue Reading

بلاگ

دیامر میں ذاتی دشمنی اور علماء کا کردار

الطاف یش

Published

on

Altaaf Yash - Writer Gilgit-Baltistan

کہتے ہیں کسی زمانے میں کوئی انگریز دیامر کے کسی علاقے میں آیا تو وہاں اس نے دیکھا چھوٹے بڑے سب کے ہاتھ میں اسلہ ہے تب اس کے پوچھنے پہ مقامی لوگوں نے بتایا یہاں پہ رواج ایسا ہے اور لوگ ذاتی دشمنی کی وجہ سے اسلہ رکھتے ہیں اور باری باری ایک دوسروں کو مارتے ہیں اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہتا ہے تو انگریز نے پوچھا پھر؟ تو بتایا گیا آخر میں دونوں خاندان دونوں قبیلے صلح کرتے ہیں اور دشمنی کو ختم کرتے ہیں تو اس انگریز نے بتایا یہ صلح آخر میں کرنے کے بجائے پہلے ہی کیوں نہیں کرتے اتنی قیمتی جانیں ضائع کرکے اور مالی نقصان کے بعد کیوں؟؟؟

اگر سوچا جائے تو انگریز کی اس بات میں بہت دم ہے دیامر والو!!! کب تک چھوٹی چھوٹی باتوں پہ ایک دوسروں کو قتل کرو گے ایک طرف تو سو روپے کی کلاشنکوف کی اک گولی جاتی ہے لیکن دوسری طرف اک انسان کی قیمتی جان جاتی ہے کسی گھر سے جنازہ اٹھتا ہے پھر اپنی باری کا انتظار کرو تو آپ کے گھر میں بھی ایسا ماتم ہوسکتا ہے آخر یہ کب تک چلے گا؟

دیامر میں پیسے زیادہ ہونے کی وجہ سے سب کچھ بدل دیا لیکن ہم خد کو کب بدل دیں گے؟ جی بی کا سب سے پسماندہ علاقہ دیامر ہے اور ہم حکومت کو گلے شکوے کرتے ہیں ہمارے ساتھ ناانصافی اور سوتیلا برتاؤ کا رونا روتے ہیں جبکہ غلطی اپنی ہوتی ہے ہم اپنے بچوں کو تعلیم کی طرف لا کے ہاتھ میں قلم تھما دیں تب دیامر کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔

ان ذاتی دشمنیوں کو ختم کرنے میں دیامر کے علماءکونسل کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور دیامر کے عوام کو بھی صبر و تحمل سے کام لینا چاہئیے اور آپس میں اتفاق اتحاد محبت اور بھائی چارے کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور علماءکو بھی چاہئے کہ وہ اپنے بیان تقاریر اور خطبوں میں اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بات کریں اور ہر شخص دیامر کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Continue Reading

بلاگ

یوم دفاع پاکستان

نوشاد شیراز نوشی

Published

on

Noshad Sheraz - Gilgit-Baltistan writer

ہے تجھ کو نبھانا اب وہ رسمِ وفا راہی
دھرتی کی محبت میں پہچان بنا راہی

میں ایک سپاہی ہوں دھرتی میری جنت ہے
غازی بنوں یا شہداء میں نام بقاء راہی

صدیوں سے جوانمردی قوموں میں صفِ اوّل
لمحوں میں فنا کر دے دشمن کی انّا راہی

سرحد کے محافظ ہو ملت کا ہو یا تارا
دے دینا تو نذرانہ سو جان یہاں راہی

دھرتی میں لہو دے کے مٹی سے محبت کا
وہ راہ شریعت اب ہو تیری ادا راہی

شہداء ہیں سدا زندہ غازی بھی ہیں متوالے
مسلم جو مجاہد ہیں حقدار دعا راہی

مغرب میں امید ِ نو اسلام کے چرچے اب
توحید کے جلوے یوں اذان صدا راہی

میں دختر شیدائی دھرتی کی محبت میں
نوشی کو عنایت کر شہداء کی ثناء راہی

Continue Reading

مقبول تریں