Connect with us

ضلع

گوجال میں گلمت فٹبال پریمیر لیگ شروع

بالائی ہنزہ گلمت گوجال میں گلمت فڈبال پریمیر لیگ (جی پی ایل) کا افتتائی تقریب ہوا اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان جعفراللہ تھے۔

عمران احمد ہنزائی

Published

on

بالائی ہنزہ گلمت گوجال میں گلمت فٹبال پریمیر لیگ (جی پی ایل) کا افتتائی تقریب ہوا اس تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان جعفراللہ تھے۔

اس ٹورنامنٹ میں گلمت ہنزہ کے پندرہ سے زیادہ فڈبال ٹیموں نے شمولیت کی ہے۔ یاد رہے کہ اس ٹونارمٹ کا انعقاد ہر سال ہوتاہے۔
اس موقع پر ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان جعفر اللہ نے اوصاف سے بات کرتے ہوے کہا کہ اس طرح کے ٹورنامٹز کا انعقاد کرنا خوش آئند ہے اور میں گلمت پریمیر لیگ کے منتزمین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے حکومت نے گلگت بلتستان میں سپورٹس کو تباہ کر دیا تھا لیکن ہماری حکومت کا اس جانب خصوصی توجہ ہے۔ہمارے پاس سپورٹس کی مد میں بہت سارافنڈ مو جودہے لوگ اس فنڈ سے بھر پور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔اور ہماری حکومت کی پالیسی میں نوجوان خصوصی توجہ کے مرکز ہیں۔اگر نوجوانون پہ توجہ نہیں دی جاتی ہے تو وہ معاشرتی برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اس لیے نوجوانون کو اس طرح کی سرگرمیوں میں مصرف رکھنا لازمی ہے تاکہ وہ اپنے فارق وقت کو مشبت انداز میں استعمال میں لا سکیں۔

اس لیے میں نے گلگت میں ڈپٹی سپیکر فڈبال ٹورنامٹ کے نام سے ایک ٹورنامٹ کا انعقاد کیا ہے جو بہت جلد شروع ہونے والاہے۔ اور ہماری حکومت اگلے سال گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں نوجوانون کیلیے مختلف سپورٹس تقربات کا انعقاد کرنے جا رہا ہے۔

Gulmit Premier League

gulmit-premier-league-2016-opening (8)

عمران احمد ہنزائی جی بی ڈاٹ پی کے ویب سائٹ کے بانی ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اسلام آباد میں سین ٹینگل انٹرایکٹیو نامی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ انھیں فوٹوگرافی، بلاگ لکھنے اور رباب بجانے کا شوق ہے۔

Advertisement
Click to comment

بلاگ

گلگت چترال روڈ

الطاف یش

Published

on

سنہ 2000ء میں بننے والے اس سڑک کی حالت اب قابلِ رحم ہے اور قابلِ غور بھی ہے کبھی کہتے ہیں یہ سڑک ملک پاکستان کے سب بڑے پراجیکٹ سی پیک میں شامل ہے تو کبھی کہتے ہیں یہ تاجکستان سے پاکستان آنے والے روڈ کا حصہ ہے کبھی تو اس کے ٹینڈر بھی ہونے کی خبر بھی پھیلتی ہے تو کبھی افتتاح کے فیتے بھی کاٹے جاتے ہیں مگر حقیقت کا پتا نہیں۔

2010ء میں آنے والے سیلاب نے اس سڑک کو مکمل طور پر متاثر کیا کئی دنوں بعد سڑک ٹریفک کے لئے بحال ہو گیا مگر کئی جگہوں میں کھڈے ایسے رہ گئے اور بچی کثر کو بعد میں آنے والے زلزلے نے پورا کیا جس کے بعد گاڑیوں کے لئے بحال کیا مگر مکمل مرمت نہیں ہوئی۔ اسی سڑک میں سینکڑوں مقامات ایسے ہیں جہاں سیلاب “لینڈ سلائیڈنگ” ہو ہی جاتی ہے جب وقت ہوتا ہے اور اس سڑک پہ اتنے زیادہ موڑ ہیں جیسے کسی بچے نے سفید کاغذ پہ پینسل سے ٹیڑھی لکیریں کھینچی ہو اس رستے سے دن میں سینکڑوں پیسنجر گاڑیاں گزرتی ہیں۔

ایمرجنسی مریضوں کو وقت پہ ہسپتال پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے “کانڇی موڑ” علاوہ بھی کئی جگہے ہیں جہاں مٹی کے تودے اور بڑے پتھر کسی وقت گاڑی کے چلنے سے زمین میں جو وائبریشن ہوتی ہے اس سے گرے تو کوئی حادثہ ہو سکتا ہے اور یہ وہی سڑک ہے جسے چترال روڈ کہا جاتا ہے دنیا کا بلند ترین پولوگراونڈ گراؤنڈ اور میلہ شندور کے لئے یہاں سے گزرنا ہوتا ہے نہایت خوبصورت پھنڈر ویلی بھی یہاں واقع ہے کارگل مارکہ میں نشان حیدر لینے والے گلگت بلتستان کا بہار بیٹا لالک جان کے مزار کے لئے بھی یہاں کے گزر کے جانا ہے۔

حالیہ دنوں ہونے والے سنو فیسٹیول ” خھلتی جھیل” جو کہ سردیوں میں اس جھیل پہ برف جم جاتا ہے اور اپنی خوبصورتی کی طرف مائل کرتی ہے مگر کوئی آئے تو کیسے اس سڑک کے خستہ حال کی وجہ سے ٹورسٹ کا رخ یہاں کی طرف کم ہے اگر یہ ہائی وے بن جاتا ہے تو کئی سیاحوں کا رخ اس طرف ہوگا اور مقامی لوگوں کی زندگیاں بھی آسان ہوں گی کسی نے کہا ہے علاقے کی ترقی میں اچھے سڑک کا کردار ہوتا ہے۔

ضلع غذر ابادی کے لہاظ سے گلگت بلتستان کا سب سے بڑا ضلع ہے اور ضلع غذر کو شہیدوں کی سر زمین بھی کہا جاتا ہے۔ضلع غذر اک خوبصورت ضلع یہاں سیاح آتے تو ہیں مگر کم اس کی وجہ یہی سڑک اک مہینہ پہلے بھی افتتاح کیا مگر اب تک کوئی پتا نہیں۔

Continue Reading

پاکستان

آکا پاکستان اور گلگت بلتستان حکومت کے مابین سنٹرل ہنزہ میں پانی کے منصوبے کے لیے شراکت داری کا معاہدہ

جی بی اسٹاف

Published

on

آکا پاکستان اور گلگت بلتستان گو رنمٹ کے مابین سنٹرل ہنزہ کے لیے پانی کے منصوبے کے لیے شراکت داری کے معاہدہ

آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ، پاکستان ،گو رنمٹ آف گلگت بلتستان اور ہنزہ کی ضلعی انتظامیہ کے مابین سینٹرل ہنزہ کے لیے پانی کی فراہمی کے ایک بڑے منصوبے کے لیے شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔

آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ، پاکستان نے گو رنمٹ آف گلگت بلتستان کے ساتھ شراکت داری کی یاداشت پر دستخط کیے جس کے تحت عطاآباد جھیل سے سینٹرل ہنزہ کے ایک بڑے حصے کوگھر یلو اور تجارتی مقا صد کیلے پانی کی فراہمی کرنے کے لیے فز یبلٹی اسٹڈ ی Feasibility studyکی جائے گی. اس Feasibility study کے تحت جہاں آبادی اور سیاحوں کی تعداد میں اضافے کو مدنظر رکھا جائے وہاں اس سکیم کے ا نفراسکٹچر کو قدرتی آفات سے محفوظ رکھنے کے لیے درکار اسٹڈی بھی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ہنزہ میں بروز بدھ، 7 اکتوبر2020 کو گو رنمٹ آف گلگت بلتستان،ضلعی انتظامیہہنزہ اور آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ کے مابین اس مطالعے کے لیے یاداشت پر دستخط ہوئے۔ جس میں حکومت گلگت بلتستان کی جناب سے گلگت بلتستان کے ایڈشینل چیف سکریٹری جناب سید ابرار حسین شاہ، جناب فیاض آحمد،ڈپٹی کمشنر ہنزہ، جناب نواب علی خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر، آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ پاکستان، سوسائٹی کے نمائندوں اور اے۔کے۔ڈی۔این کے لیڈرز نے شرکت کی۔

سینٹر ہنزہ کو پانی کی شدید قلت کا سامنہ ہے کیونکہ اس کی بیشتر آبادی پانی کی ضرورت کو دو گلشیز اور ان سے جڑے ندیاں (حسن آباد نالے اور التر نالے) سے پورا کر رہی ہے اور ان گلشیز پر حالیہ برفانی جھیل بنے اور ا ن کے پھٹنے کے واقعات نے پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور دیگر معاشرتی انفراسٹر یکچر پر بہت اثر ڈالا ہے۔ جبکہ گھریلو استعمال کے پانی کی شدید قلت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں میں تیز رفتار نشونما خصو صاً سیاحت میں اضافے کی وجہ سے پانی کی قلت کا یہ معاملہ اب شدت اختیار کر گیا ہے۔ لہذا آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ اپنی تکنیکی صلاحیتوں کو استعمال کر تے ہوے ان خطرات کے تشخیص کرنے میں گو رنمٹ آف گلگت بلتستان اور ہنزہ انتظامیہ کو Feasibility Study کرنے اور واٹر سپلائی ڈیزئن کرنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

اس موقع پر گلگت بلتستان کے ایڈشینل چیف سکریٹری جناب سید ابرار حسین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کی حکومت علاقے اور اس کی عوام کی ترقی کے لے ہمیشہ گامزن ہے۔ ہم آغاخان ڈولپمنٹ نیٹ ورک کا شکر گزار ہیں کہ وہ متعد ترقیاتی منصوبوں کا ادراک کر رہی ہے جس میں غربت کو کم کرنے اور کمیو نٹی کو با اختیار بنانے کے پروگرامزشامل ہیں۔ ہم بہت سے ترقیاتی اقدامات خصوصاً موسیماتی تبدیلیوں اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں تک پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے اُمور کو حل کرنے کے لیے گو رنمٹ آف گلگت بلتستان کی طرف سے آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ کے تعاون کو سہراہتے ہیں۔

اپنے خطاب میں جناب فیاض آحمد،ڈپٹی کمشنر ہنزہ،نے کہا ہے اس ترقیاتی پراجیکٹ میں آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ کے ساتھ تعاون سے تجارت گاہوں،ہیلتھ سینٹر اور دیگر سکولوں اور تقر یبا 5500 گھرانوں کو صاف پانی ی فراہمی کو یقینی بنائے گی جس میں ہنزہ کے آٹھ بستیاں التت، فیض آباد، گنیش، گریلت، دوکھن اور علی آباد کے علاقو ں کو فائدہ ہو گا۔ اس Feasibilty Study کے تحت نہ صرف پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کیا جائے گا بلکہ سینٹرل ہنزہ میں سیا حت کو فروغ ملے گی۔

جناب نواب علی خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ پاکستان اپنے تاثرات میں کہا کہ حکومت پاکستان اور اے۔کے۔ ڈی۔ این پاکستان کی ترقی اور یہاں کی عوام کی معیار زندگی کو بڑھانے کے لیے ہمیشہ کوشاں ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ اے۔ کے ۔ڈی۔ این، حکومت کی جانب سے تمام تر تعاون کا شکر گزار ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں ،آغاخان ایجنسی فارہا بیٹاٹ پاکستان نے پانچ لاکھ 500,000لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی بنیادی سہولت فراہم کیا ہے جس سے نہ صرف لوگوں کی صحت اچھی ہوتی ہے بلکہ معاشی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور لڑکیوں کا دور دراز جگہوں سے پانی لانیکی مشقت میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

Continue Reading

ماحول

آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ اور جی بی گورنمٹ کے مابین قدرتی آفات سے نمٹنے کیلے معاہدے پر دستخط

جی بی اسٹاف

Published

on

آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ


آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ اور گورنمٹ آف گلگت بلتستان، نے مو سمیاتی تبدیلوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے 50ملین درخت لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس بات کا اعلان منگل،بتاریخ 06 اکتوبر 2020 کو گلگت کے مقام پر منعقد کی جانے والے ایک اہم تقریب میں ہوا۔ جس میں دونوں ادارروں نے معاہدے پر دستخط کیے۔

پاکستان پچھلے دو دہا ئیوں سے مو سمیاتی تبد یلوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں دس نمبر پر آر ہا ہے۔ چونکہ گلگت بلتستان کا زیادہ تر علا قہ پہاڑوں اور گلیشیزپر محیط ہے اس وجہ سے گلگت بلتستان قدرتی آفات کی زد میں رہتا ہے۔ ان آفات بشمول سیلاب،ڈیبیرز فلو، لینڈ سلائیڈنگ اور گلشیز کے پگھلنے سے بنے والے جھیل وغیرہ شامل ہیں۔ آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ اور گورنمٹ آف گلگت بلتستان کا یہ مشتر کہ پراجیکٹ ہے جو کہ شجرکاری کے ذریعے کاربن Emission کو کم کرنے، خطرے سے دوچار ڈھلوانوں کو مضبوط بنانے اور علاقے میں مو سمیاتی تبد یلی سے رو نما ہونے والے اثرات کو کم کرنے کے مقاصد کو حاصل کرے گی۔

محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف، آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کی تکنیکی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں تقریبا 300 مقامات پر پودے لگائے گی جبکہ آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ ایسے مقامات میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں واٹر سپلائی کے نظام کی تعمیر میں تکنیکی مدد فراہم کرے گی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب شاہد زمان، سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات نے کہا کہ ہم آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کے مشکور ہیں جو ہمیں تکنیکی مدد فراہم کریں گی اور اس پرو جیکٹ کے زریعے مو سمیاتی تبدیلوں کے ا ثرا ت کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر ے گی۔ حکومت گلگت بلتستان آ غا خان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کے خدمات کو سراہتی ہے۔ جو اے۔کے۔ڈی۔این نے پچھلے کئی سالوں میں علاقے کی ترقی کے لیے کیا ہے اور مزیدکر رہا ہے۔ آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کے مضبوط انفراسٹر کچر کی تعمیر اور ماحولیاتی تبدیلوں کے ا ثرا ت کو کم کرنے والے پروگرامز نے پہلے ہی علاقے میں کافی تبدیلی لائی ہے۔ اورہم اس شراکت داری کے زریعے مستقبل میں بڑے اثرات کی تواقع کرتے ہیں۔

نواب علی خان، چیف ایگزیکٹو آفیسر، آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ا ٓغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ ، محکمہ جنگلات کے ساتھ اس اشترک کو اہم سمجھتی ہے کیونکہ یہ پراجیکٹ اے۔ کے۔ ڈی۔ این،کی مو سمیاتی تبد یلی کی حکمت عملی اور حکومت پاکستان کے ویژن کے حصول میں مدد گار ثابت ہوگی۔ یہ پروجیکٹ گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں اے ۔کے۔ ڈی۔ این کے وسیع تر کام اور مہارت پر استوار ہے۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آغا خان کو نسل برائے پاکستان کے صدر، جناب حافظ شیر علی نے کہا کہ مجھے آغاخان ایجنسی فار ہا بیٹاٹ کی گلگت بلتستان کی تر قی کے لیے گورنمٹ کے ساتھ شراکت داری پر بہت خوشی ہے۔ جو علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اور یقینی طور پر یہ مشتر کہ کو شش پاکستان کے عوام کی معیار زندگی کو بڑھانے میں اپنا بہت اہم کردار ادا کرئے گی۔ ِِ

Continue Reading

مقبول تریں