فدا حسین: معرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ترجمان نے چیف سیکریڑی کے بیان کو حقیقت کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1947سے اب تک اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں منظور ہونے والی قراردادوں کے مطابق گلگت بلتستان ، لداخ ،آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر متنازعہ علاقے ہیں جو کہ ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے ۔اس کا حل اقوام متحدہ کے قرار داروں کے مطابق ہونا باقی ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا چیف سیکریڑی کی طرف سے گلگت بلتستان متنازعہ نہ ہونے کا بیان غلط ہے؟ تو انہوں جواب دیتے ہوئے کہا ہاں بلکل غلط ہے۔
واضح رہے کہ چیف سیکریڑی گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے وہاں کے ضلع گانچھے کے دورہ کے موقع پر ایک مقامی رہنما کی طرف سے ضلعی ہسپتال میں گائنی ڈاکٹرکی تعیناتی کے مطالبے پر کہا تھا کہ بتائیں کہ آپ کتنا ٹیکس دیتے ہیں اس پر مقامی شخص نے متنازعہ علاقہ کی بات کی انہوں مبینہ طور پر کہا تھا کہ کوئی متنازعہ علاقہ نہیں ہے وفاق آپ کو سو ارب روپے بجٹ دیتا ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔جو یوب ٹیوب پر آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔
چیف سیکریڑی اور مقامی رہنما میں ہونے والی گفتگو سماعت فرمائیں۔
اس پر پورئے گلگت بلتستان احتجاج ہوئے تو انہوں (چیف سیکریڑی ) نے گائنی ڈاکٹر کے مطالبہ کرنے والے شخص کو ریاست پاکستان کی خلاف ہرزائی سرائی کرنے والا قرار دیتے ہوئے اس ویڈیو کو ایڈیٹ کرنے الزام عائد کیا تھا ۔تاہم اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر فورا وائرہو تو گئی تھی مگر اس واقعے کی خبر روزنامہ سلام گلگت بلتستان کے علاوہ کسی مقامی آخبار میں شائع نہیں تھی اگرچہ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان ایکسپریس بھی شائع ہوئی تھی مگر انٹرنیٹ پر گلگت بلتستان ایکسپریس کے اس دن یعنی 11 جون کا شمارہ دستیاب نہیں ہے۔ اس حوالے سے مقامی لوگوں او رسینئر صحافیوں کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان پریس انفارمیشن کے اعلیٰ افسروں نے مقامی اخباری مالکان کو اشتہارات بند کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے شائع ہونے نہیں تھی اور اور یہ خبر شائع کرنے والا مذکورہ اخبار (سلام گلگت بلتستان) کی کاپیاں مبینہ طور پر پر اسرار طور پر غائب ہوئی تھیں اس میں عمومی خیال یہی ہے اسے غائب کروانے بھی مبینہ طور پر پریس انفارمشن کے لوگ ملوث ہیں تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان نے ان دونوں واقعات سے لا تعلقی ظاہر کی تھی۔
متنازعہ علاقہ قرار دینے کے باوجود پانچ سال بعد ٹیکس نفاذ کے قانونی حیثیت کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ یہ اندونی اور وزارت امور کشمیر کا معاملہ ہے مگر اس بارئے میں تفصیلات لے کر آگا کیا جائے گا خیال رہے کہ مقامی لوگ گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دینے کے بعد کسی بھی وقت ان سے ٹیکس کی وصولی کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔
اور 1999میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے تک وہاں کے لوگوں سے کسی بھی قسم کی ٹیکس کی وصولی غیر قانونی قرار دے رکھی ہے۔ ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے گلگت بلتستان میں مبینہ طور پر ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے زیر انتظام کسی بھی علاقے تک تحقیقات کے لئے آنے والوں کو رسائی دینے کے لئے تیار ہے اور ترجمان نے بھارت سے بھی اپنے زیر انتظام والے علاقوں میں تحقیقات کرنے والوں کو جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔