Connect with us

خبریں

ممتاز اسکالر اور تاریخ دان پروفیسر عثمان انتقال کر گئے

گلگت بلتستان کے ممتاز اسکالر، تاریخ دان اور ماہر تعلیم عثمان علی خان مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے. ان کی عمر 86 برس تی۔

Published

on

Professor Usman

گلگت بلتستان کے ممتاز اسکالر، تاریخ دان اور ماہر تعلیم عثمان علی خان مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے. ان کی عمر 86  برس تھی۔ انھیں راولپنڈی کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ)  میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

پروفیسر عثمان بہت سی کیابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی مشہور کیابوں میں سے چند قراقرم کے قبائل، شنالوجی، گلگت کی روگ کہانی، انقلاب گلگت وغیرہ ہیں۔

پروفیسر عثمان ریٹائرمنٹ سے قبل 39 سال تک  محکمہ تعلیم  میں مختلف عہدوں پر فائز ریے۔  انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک استاد کے طور پر گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 گلگت سے شروع کی۔ گیارہ سال بعد وہ انسپکٹر سکولز مقرر کئے گئے۔

ڈسٹرکٹ انسپکٹر سکولز پر ترقی پانے سے قبل انہوں نے ہنزہ، اسکردو اور دیامر میں بھی بطور ہیڈماسٹر خدماد دیں۔

انہیں گلگت  میں سپرد خاک کر دیا جائے گا۔

اس خبر کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

GBee Staff bring you the latest and trending topics from Gilgit-Baltistan and Chitral. Like on Facebook and Follow on Twitter for fresh updates..

خبریں

گلگت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئ

گلگت بلتستان کے درالحکومت گلگت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئ ۔ ڈپٹی کمشنر / ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گلگت حمزہ سالک کے مطابق دفعہ 144 کی مدت ایک ماہ ہوگی جبکہ اسی دوران دریائے گلگت پر گاڑیاں دھونے اور نہانے پربھی مکمل پابندی رہے گی۔ اس کے علاوہ ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کے استعمال پر پابندی لگائی گئ ہے

Published

on

گلگت میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئ

گلگت بلتستان کے درالحکومت گلگت میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئ۔  ڈپٹی کمشنر /  ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گلگت حمزہ سالک کے مطابق دفعہ 144 کی مدت ایک ماہ ہوگی جبکہ اسی دوران  دریائے گلگت پر گاڑیاں دھونے اور نہانے پربھی مکمل پابندی رہے گی۔ اس کے علاوہ ہوائی فائرنگ اور پٹاخوں کے استعمال پر پابندی لگائی گئ ہے

Continue Reading

ثقافت

اسلام آباد میں چترال یوتھ فورم کی جانب سے موسم بہار کی امد پر ایک میگا ایونٹ ’’سپرنگ فیسٹیول ‘‘کا انعقاد

چترال یوتھ فورم نے اتوار کی شام ،16 اپریل کو پاکستان نیشنل کونسل آف ارٹس میں ایک پروگرام ’’سپرنگ فیسٹیول ‘‘ (Spring Festival) کا انعقاد کیا ۔جس کا مقصد موسم بہار کو چترال کے صدیون پرانی ثقافتی طرز میں منانا تھا ۔جس میں چترال کے ایم این اے جناب شہزادہ افتحار الدین اور چترال ٹاون کے مینجینگ ڈائیریکٹر جناب سلطان والی خصوصی طور پر شرکت کی

Published

on

Spring Festival Chitral and Gilgit-Baltistan and PNCA, Islamabad

(نظار علی) چترال یوتھ فورم نے اتوار کی شام ،16 اپریل کو پاکستان نیشنل کونسل آف ارٹس میں ایک پروگرام ’’سپرنگ فیسٹیول ‘‘ (Spring Festival) کا انعقاد کیا ۔جس کا مقصد موسم بہار کو چترال کے صدیون پرانی ثقافتی طرز میں منانا تھا ۔جس میں چترال کے ایم این اے جناب شہزادہ افتحار الدین اور چترال ٹاون کے مینجینگ ڈائیریکٹر جناب سلطان والی خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس پروگرام میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں بسنے والے گلگت بلتستان اور چترال کے سینیر پروفیشنلز او ر فیملیز کے علاوہ مختلف علاقون سے مہمانوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

ایم این اے چترال جناب شہزادہ افتحارالدین نے پروگرام کو سراہتے ہوے کہا ۔ ’’ یہ پروگرام اپنے نوعیت کا ایک منفرد پروگرام تھا۔ یہ فیسٹیول ہر سال ہونا چاہیے اور میں کوشش کرونگا کہ پی این سی اے اسے اپنے سالانہ کیلنڈر میں ڈال دے تاکہ ہم ہر سال اپنے کلچر کو اس طرح مناتے رہے۔ ‘‘

آگرچہ موسم بہارجس کو پھولون کے مہینے کے نام سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے کا جشن مختلف علاقون میں منایا جاتا ہے لیکن چترال یوتھ فورم نے اس کو ایک منفرد انداز میں منایا۔ اس پروگرام میں جشن بہاران کو مختلف معاشروں کے اپنے اپنے ثقافتی انداز میں منانے کو مختلف ٹبلوس کی شکل میں پیش کی جس میں چھوٹے چھوٹے بچوں نے پرفامنس دی ۔ اور انہون نے ایران، افعانستان، تاجکسان، چترال اور گلگت بلتستان کی ثقافت کو ایک نہایت اچھے انداز میں پیش کیا جس کو شراکاء نے دل کھول کر داد دی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ نوجوانون نے عرصہ دراز سے چلے آنے والی چترال کی موسیقی اور رقص ’’ پھستک دوسک ‘‘ کو بھی پیش کیا جو اپنے منفرد انداز کی بناء پر چترال میں بہت مقبول ہے۔

اس فیسٹیول کا دوسرا حصہ ثقافتی میوزک کا تھا جس میں چترال اور گلگت بلتستان کے مایہ نازفنکارون نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ چترال کی طرف سے محسن حیات شاداب اور عرفان علی تاج اور گلگت بلتستان سے جابر خان جابر نے اپنے فن سے لوگوں کومحظوظ کیے۔ پروگرام کے شراکاء نے بہ یک وقت قدیم اور جدید میوزک میں رقص کرکے محفل گرما دی۔

اس خبر کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Continue Reading

خبریں

بابائے بروشسکی علامہ نصیرالدین ہنزائی کو ان کے آبائی گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا

بابائے بروشسکی پروفیسر ڈاکٹر علامہ نصیرالدین ہنزائی کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے آبائی گاوٗں حیدر آباد میں سپرد خاک کیا گیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ قاری شمس نے پڑھائی۔15جنوری کو مرحوم بوسٹن امریکہ میں انتقال کرگئے تھے۔مرحوم کے وصیت کے مطابق انکی تدفین انکے آبائی گاوٗں حیدر آباد ہنزہ میں عمل میں لایا گیا ۔

Published

on

Allamah Nasir Hunza funeral

بابائے بروشسکی پروفیسر ڈاکٹر علامہ نصیرالدین ہنزائی کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے آبائی گاوٗں حیدر آباد میں سپرد خاک کردیا گیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ قاری شمس نے پڑھائی۔ مرحوم ۱۵ جنوری کو بوسٹن امریکہ میں انتقال کرگئے تھے۔ مرحوم کے وصیت کے مطابق انکی تدفین انکے آبائی گاوٗں حیدر آباد ہنزہ میں عمل میں لائی گئی ۔

پروفیسر ڈاکٹر علامہ نصیرالدین ہنزائی حیدر آباد گاوں میں ہی 1917کو پیدا ہوئے تھے۔ مرحوم بروشسکی زبان کے صاحب دیوان شاعر اور تقریبا 100سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ اسکے علاوہ بروشسکی ڈکشنری کے تین جلد بھی آپ کی کوششوں سے منظر عام پر آچکے ہیں۔

Allamah Nasir Hunzai

مرحوم کے نماز جنازہ میں ارباب زوق گلگت کے نمائندوں جناب عبدالخالق تاج ،جناب شیر باز برچہ اور معروف شاعر جمشید خان دکھی نے بھی شرکت کی۔ انکے علاوہ سابقہ اسپیکر جی بی ایل اے جناب وزیر بیگ ،مشہور کوہ پیماہ نذیر صابر اور نگر کے مشہور عالم دین شیخ محمد تقی عابدی امام جمعہ والجماعت ہوپر نگر کے علاوہ ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔

نمازہ جنازہ کے موقعے پر خطاب کرتے ہوئے عبدالخالق تاج نے حلقہ ارباب زوق گلگت کی نمائندگی کرتے ہوئے مرحوم کے علمی و ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کی۔ اس موقعے پر بات کرتے ہوئے شیرباز برچہ نے انکی عملی خدمات اور خاص کر بروشسکی زبان و ادب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علامہ نے جو ڈکشنری کی شکل میں بروشسکی زبان کیلئے ایک انمول تحفہ ہے ۔

گلگت بلتستان کے مشہور قومی شاعر جمشید خان دکھی نے  مرحوم علامہ نصیرالدین ہنزائی کیلئے اپنا ایک اردو نظم پیش کرکے خراج تحسین پیش کیا اور بلتستان کے اہل قلم کی جانب سے بھی تعزیت پیش کی ۔

Allamah Nasir Hunzai
سابقہ اسپیکر وزیر بیگ نے علامہ نصیرالدین ہنزائی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ کی زندگی، جو  کہ سو سال پر محیط ہے، کا تمام حصہ مرحوم نے علم کی فروغ میں تمام کی ہے۔ علامہ مرحوم نے بروشسکی زبان و ادب کے ساتھ ساتھ علم کی روشنی پھیلانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ۔

علامہ نصیرالدین ہنزائی کے فرزند اور ہنزہ کے مشہور سیاسی و سماجی شخصیت اظہار ہنزائی نے نماز جنازہ میں شریک افراد کا شکریہ اد ا کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرا خاندان حکومتی اداروں، گلگت بلتستان حکومت،  خیبر پختوخواہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کے مشکور ہیں جنہوں نے مرحوم کی جسد خاکی کو ہنزہ پہنچانے میں ہماری مدد کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہنزہ کے کمیونیٹی اور تمام ملک و بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کا مشکور ہوں ۔

اس آرٹیکل کو انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

Continue Reading