Connect with us

بلاگ

ایکسپریس نیوز کے پروگرام "گرفت” میں صحافتی اخلاقیات کا قتل

ایکسپریس نیوز کے پروگرام گرفت کے میزبان صدام طفیل کی ہنزہ میں رکاڈ کی گئی "خنجراب باڈر اسپیشل” میں صحافتی اخلاقیات کے منافی حرکت پر ہنزہ کے نوجوانان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

عمران احمد ہنزائی

Published

on

ایکسپریس نیوز کے پروگرام "گرفت" میں صحافتی اخلاقیات کا قتل

ایکسپریس نیوز کے پروگرام "گرفت Grift” جو کہ پچھلے دنوں ہنزہ میں رکاڈ کیا گیا تھا، میں ہنزہ پولیس کے تین اہلکاروں، ایک کو لاپرواہ ٹیکسی ڈرائیور، دوسرے کو منشیات اسمگلر اور تیسرے کو افغان دہشتگرد دکھایا گیا ہے۔ یہ پروگرام اس طرح کے Mock Exercise پہلے بھی دکھا چکا ہے۔ یہ سب ہنزہ کے SP عمران کھوکر کی موجودگی میں ہوا اور وہ پولیس عملہ سمیت  ناصر آباد پل سے خنجراب باڈر تک ایکسپریس نیوز کے ٹیم کی معاونت کرتے رہے۔

یہ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے اور ایکسپریس نیوز کے اس غیر اخلاقی اور صحافتی اخلاقیات کے منافی حرکت پر ہنزہ کے نوجوانان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اپڈیٹ: ایکسپریس نیوز نے ویڈیو کو اپنے یو ٹیوب چینل سے ہٹا دیا ہے۔

موک ایکسرسائز دینا بھر کے نیوز چینلز دکھاتے ہیں۔ یہ کافی حساس کام ہوتا ہے کیوںکہ چھوٹی سی لاپرواہی سے بہت بڑی غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لئے پروگرام شروع ہونے سے پہلے، پروگرام کے دوران اور پروگرام ختم ہونے کے بعد واضع طور پر بتایا جاتا ہے کہ پروگرام حقائق پر مبنی نہیں ہے اور اس میں حصہ لینے والے افراد ایکٹر ہیں۔

کچھ ممالک کے چینلز پورے پروگرام کے دوران "Dramatized یا Fictional یا پھر Recreated Scenes کے الفاظ واضع کر کے اسکرین پر لکھتے ہیں۔ اس طرح دیکھنے والوں تک پروگرام کا اصل مقصد پہنچایا جاتا ہے۔

مگر ایکسپریس نیوز نے سنسنی پھیلانے، چینل کی ریٹیگ بڑھانے، دیکھنے والوں کو گمراہ کرنے اور اپنے غیر پیشہ وارانہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوے ایسا کچھ کرنا گوارا نہ کیا۔

اس واقعے کے بعد کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

کیا ہنزہ کو بدنام کرنے کی کوئی منظم کوشش کی جا رہی ہے؟

ایس پی ہنزہ کی موجودگی میں پولیس کے اہلکاروں نے اداکاری کیسے کی؟

کیا اس اداکاری کے لئے کسی کو معاوضہ دیا گیا؟

اس پراگرام کے بعد ہنزہ کے ساخت کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کے ذمہ دار کون ہیں؟

ایسے بہت سے سوالات کے جوابات ٖایس پی ہنزہ عمران کھوکر، گرفت کے میزبان صدام طفیل اور ایکسپریس نیوز کے منتظمین ہی دے سکتے ہیں۔

حکومت کو بھی چاہئے کہ ایسے پروگارموں پر پابندی لگائے جو عوام میں شعور پیدا کرنے کے بجائے غم و غصہ پیدا کر تے ہیں اور ساتھ ہی صحافتی اخلاقیات کی پابندی کو ہھی یقینی بنائے۔

عمران احمد ہنزائی جی بی ڈاٹ پی کے ویب سائٹ کے بانی ہیں۔ وہ ڈیجیٹل میڈیا کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اسلام آباد میں سینٹینگل انٹرایکٹیو نامی کمپنی میں کام کرتے ہیں۔ انھیں فوٹوگرافی، بلاگ لکھنے اور رباب بجانے کا شوق ہے۔

Advertisement
Click to comment

مقبول تریں